مرزا بیدل: شاعر اخلاق

From Social Sciences & Humanities
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مذاکرات
عنوان مرزا بیدل: شاعر اخلاق
انگریزی عنوان
Mirza Bedil: A Poet of Ethics
مصنف رعد، عثمان غنی
جلد 1
شمارہ 1
سال 2021
صفحات 44-52
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Mirza Bedil, Urdu, Poet, Ethics, Indian Subcontinent
شکاگو 16 رعد، عثمان غنی۔ "مرزا بیدل: شاعر اخلاق۔" مذاکرات 1, شمارہ۔ 1 (2021)۔

Abstract

Mirza Bedil is a famous and well renowned poet of his era and after his era. His poetry has very poetically and lyrically characteristics, thoughts of his poetry also influenced on Urdu and Persian language. Even big poets of Urdu and Persian Ghalib and Iqbal inspired by Bedil’s poetry style and thoughts. Bedil’s poetry has many ethically manners, mystically thoughts, secrets of life and also thoughts of life’s movement to forward. In this article must present the ethically and good manners aspects of Bedil’s poetry, according to life, mystic, God, earth and other aspects of daily life.

تعارف

میرزا عبد القادر بیدؔل 1644 ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ترکی النسل تھے۔ وہ بیک وقت ایک قادر الکلام شاعر، صوفی، فلسفی، منطقی، موسیقار اور جملہ علومِ متد اولہ و فنونِ مروجہ میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ اس بات میں شک نہیں کہ اردو شاعری پر بھی بیدلؔ کے اثرات بہت زیادہ ہیں اور غاؔلب جیسا انا پرست بھی اس کے سحر سے نہ بچ سکا اور اعتراف کرتا نظر آتا ہے کہ :

طرز ِبیدل ؔمیں ریختہ لکھنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے [1]

بیدل ؔ کا شمار برصغیر کے ان عظیم شعرا میں ہوتا ہے جن کی شہرت ایران ، افغانستان اور تقریباً دوسرے کئی ممالک میں پہنچی۔ بیدلؔ کو افغانستان میں پوجنے کی حد تک مانا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیدلؔ کی شاعری اور فکر کا اثر فغاں، میرزا مظہر، میر تقی میر، میر درد اور شاہ قدرت کی شاعری میں نظر آتا ہے۔[2] اقبال کی شاعری پر بھی اس کے اثرات کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ اقبال تو بیدلؔ کو استاد کامل اور مفکر شاعر مانتے ہیں۔[3] بیدل ؔکے والد کا نام عبد الخالق تھا اور وہ اپنے وقت میں سرکاری ملازم تھے۔ والد نے اپنے استاد مولانا کمال سے بیدل ؔکے نام کی درخواست کی جو انھوں نے قبول کرتے ہوئے سلسلۂ قادریہ کی نسبت سے عبدالقادر نام تجویز کیا۔ عبد القادر بیدلؔ ابھی پورے پانچ برس کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ والد چل بسے۔ اس کے بعد ماں نے تربیت کرنا شروع کی مگر وہ بھی زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکیں اور تقریبا ًڈیڑھ سال بعد وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اس لیے موت کا دکھ اور حقیقیت کا ادراک بیدلؔ کو بچپن ہی سے ہو گیا تھا جس کا ذکر انھوں نے اپنی آپ بیتی "چہار عناصر" میں کیا ہے۔ رجائیت اور خوشی کی تلاش بیدل کے لیے بے سود ہو چکی تھی۔ مگر یتیم بھتیجے کی پرورش کا ذمہ اس کے چچا نے اٹھایا جو میرزا قلندر کے نام سے مشہور تھے۔ یہیں سے بیدلؔ کا قلندرانہ اور صوفی مشرب ہونے کا در وا ہوتا ہے۔ چوں کہ چچا ایک قلندرانہ مزاج کے آدمی تھے اور صوفیوں سے میل ملاپ ، ملاقات اور روحانی ذکر و اذکار ان کا معمول تھا اور جہاں جاتے بیدلؔ کو بھی ساتھ لے جاتے تو اس کے ضمیر میں بھی اسی روحانی عمل ، وظائف اور اقوال نے راہ پکڑ لی۔ نوعمر بھتیجے کی اثر پذیر طبیعت پر چچا کی تاکیدیں نقش ہوتی گئیں اور پھر خانقاہی نظام اور فضا اس کے ذہن کو آسودہ کرنے لگی۔ آخر چچا کو اطمینان ہو گیا کہ بھتیجا خود ان کی طرح درویشانہ طور طریقے کا اچھی طرح قائل ہو گیا ہے اور اس کے دلو دماغ پر فقیروں اور صوفیوں کی کرامات کا اعتبار پختہ ہو گیا ہے۔شان دار علمی و درویشانہ زندگی گزار کرمیرزا عبد القادر بیدل ؔ1720 کو انتقال فرما گئے۔

آپ کی شاعری اور نثر کو پڑھیں تو اندازا ہوتا ہے کہ تصوف، تجرباتِ روحانی، مسئلہ توحید، انسان، خدا اور کائنات کے رشتوں اور ان سے پیدا ہونے والے ادراک نے اس فکر کو جنم دیا ہے جس میں حرکت کا احساس غالب ہے۔ میرزا عبد القادر بیدلؔ نے فارسی میں ننانوے ہزار اشعار لکھے۔ جن میں "محیطِ اعظم" (ساقی نامہ) طلسمِ حیرت، طورِ معرفت، عرفان، تنبیہ السہوسین، ساٹھ ہزار سے زاید اشعار ِغزل، انیس قصائد، رباعیات، مخمسات، تراکیب بند، ترجیع بند ، قطعات ، مربع، مستزاد وغیرہ شامل ہیں۔ نثر میں "چہار عناصر" آپ بیتی اور "رقعات بیدلؔ" کے نام سے خطوط بھی مرتب کیے۔

اخلاق کی تعریف

انسان کی صفات میں خیر و شر دو ہی بنیادی عناصر ہیں۔ یہ خیر و شر کا تناسب اس کے اخلاقی نظام کو متعین کرتا ہے۔ ابو الاعجاز حفیظ صدیقی "اخلاقی شعور" کے ضمن میں لکھتے ہیں: "ہماری وہ قلبی وذہنی استعداد جس کے ذریعے ہم خیر و شر میں تمیز کرتے ہیں، اخلاقی شعور کہلاتی ہے۔ ذوقِ جمال ہو یا اخلاقی شعور ایک معنوں میں فطری اور جبلی ہیں اور ایک معنوں میں اکتسابی۔ ذوقِ جمال کی طرح اخلاقی شعور بھی ایک بیج کی مانند انسانی فطرت میںموجود ہوتا ہے لیکن وہ ماحول، جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں ہمارے اخلاقی شعور کی تربیت کرتا ہے۔"[4]

بیدل کے افکار

اب میرزا عبد القادر بیدلؔ کے عرفانِ ذات، عرفانِ زندگی، عرفانِ اخلاق، عرفانِ مذہب و تصوف اور عرفانِ خدا کے بارے میں چند اشعار کو دیکھتے ہیں۔ میرزا عبد القادر بیدل کی شاعری میں عرفانِ خدا کے لطیف سے لطیف نکتے دیکھنے کو ملتے ہیں جن سے اخلاقی طور پر بے شمار اسباق ہماری روز مرہ زندگیوں کی بہتری کے لیے واضح نظر آتے ہیں۔ چند ایک پر نظر دوڑاتے ہیں:

ذوقِ طلب عالمیت، وقف حضورِ دوام

پر بہ اجابت مکوش، ختم دعا می شود [5]

ترجمہ: حصولِ مدعا اور طلب کا ذوق ایک ایسی دنیا ہے ، جو انسان کو بارگاہِ رب العزت میں ذہنی طور پر ہمیشہ حاضر اور متوجہ رکھتی ہے۔ لہذا اے وہ شخص! جو اپنی دعاؤں کی قبولیت کی کوشش میں ہے تجھے چاہیے کہ دعاؤں کی مقبولیت کی اتنی آرزو نہ کر کہ کہیں تجھے دعا کی حاجت ہی نہ ہے۔

مندرجہ بالا شعر کے اندر لطیف سا نکتہ بیدل ؔنے یہ اجاگر کیا ہے کہ جب تک انسانکو خدا سے طلب رہتی ہے وہ ذہنی اور دلی طور پر خدا سے کسی نہ کسی طرح جڑا رہتا ہے مگر جب ہی اس کی تمنائیں بار آور ہوتی ہیں تو وہ خدا سے دعا کا رابطہ ختم کر دیتا ہے اور اسے بھول جاتا ہے۔ اس لیے بیدلؔ کہتا ہے کہ تو دعاؤں کی مقبولیت سے زیادہ مقبول نہ ہونے کی تمنا کر۔ تاکہ تیرا خدا سے رابطہ سدا قائم و دائم رہے۔ اس شعر میں عرفان نفس کا ایسا لطیف اور عجیب نکتہ نکالنا بیدلؔ ہی کا خاصہ ہے۔

با شمع فگتے از چہ سرت می دہی بباد

گفت آں سرے کہ سجدہ نہ دار چنیں خوش است[6]

ترجمہ: میں نے شمع سے کہا کہ تو اپنا سر کیوں ضائع کر دیتی ہے؟ جواباً اس نے کہا: جو سر سجدے کے لیے جھک نہ سکے ، اس کے ساتھ یہی سلوک بہتر ہے۔

بیدلؔ اس شعر میں عجز و انکساری کے ساتھ ساتھ خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے اور اس کا عرفان حاصل کرنے کا درس دیتا ہے۔ یعنی شمع کا سر جھکتا نہیں اس لیے وہ اسے کھڑے کھڑے ہی برباد کر دیتی ہے، جلا دیتی ہے۔ اسی طرح جب انسان کا سر اپنے مالک حقیقی کے سامنے نہ جھک سکے تو اس کا سر بھی ضائع کر دینے اور جلا دینے کے قابل ہے اور وہی سر افتخار حاصل کرتا ہے جو اپنے مالک کے سامنے جھکنا جانتا ہو۔

در عالمیکہ ضبط نفس راہبر شود

بے مرگ بندہ را بخدا می تواں رسا ند [7]

ترجمہ: وہ جہاں جس میں ضبطِ نفس راہبر بن جائے وہاں تو موت کے بغیر بھی بندے کو اللہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

بیدلؔ نے اس شعر میں خدا کے قرب کے حصول کا ذکر تصوف کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کیاہےکہ ضبطِ نفس سے خدا کا قرب ممکن ہے۔ یعنی اپنی ہر سانس پر کڑی نگاہ رکھ، اپنا لحظہ بہ لحظہ احتساب کر کے انسان خدا کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر سانس ذکر الٰہی میں گزارنی چاہیے۔ چوں کہ ذکر کا تعلق زبان سے ہے اور سانس کے اندر باہر آنے میں بھی منھ اور زبان کا عمل دخل ہے۔ اس لیے ہر سانس اور زبان کے پل پل کےعمل سےبھی ذکر کا جلوہ برآمد ہونا چاہیے۔ نہ ہی دنیا کا ذکر چلے اور نہ ہی متاثر ہو کر زبان ذکرِالٰہی سے غافل ہو۔ ہر لمحے اور ہر لحظے ہی خدا کا ذکر اور اسی کا نام جھپنا چاہیے اور اسی طرح انسان موت کے بغیر بھی خدا کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔

طبعِ روشن فارغ است از فکر غفلت ہائے خلق

نیست ظاہر ، معنیٰ گوش کہہ، اندر آئینہ [8]

ترجمہ: روشن طبع لوگ کسی کے عیب کو ظاہر نہیں کرتے، نہ اس پر جس میں عیب ہوتا ہے اور نہ مخلوق پر۔ ان کی مثال آئینے کی سی ہوتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کسی بہرے کو بٹھا دیا جائے تو آئینہ اس کے اس حقیقی عیب کو نہ تو اس پر ظاہر کرے گا اور نہ ہی کسی اور پر۔

یہ شعر بیدلؔ کی فکر اور خیال کا عمدہ ترین نمونہ ہے کہ کس سادگی اور عمدگی کے ساتھ بیدل نے انسانوں کو اخلاقی ترغیب اور تربیت دلائی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے عیب کسی کے آگے پیش نہیں کرنے چاہییں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو آئینہ جو کہ بے جان اور انسان کا بنایا ہوا ہے کہ وہ انسان سے بڑھ جائے گا جو کسی کے عیب کو دوسروں کے آگے تو کیا خود اسی عیب دار شخص پر بھی ظاہر نہیں کرتا اور ہم انسان ہو کر دن رات لوگوں کے عیبوں کی تشہیر و نمائش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے انسانوں کو آئینے سے سبق اندوز ہونا چاہیے۔ روشن ضمیر خلق خدا کے عیب بالکل آئینے کی طرح ہی چھپاتے ہیں کیوں کہ ان کے قلوب انوارِ الٰہیہ سے آئینے کی طرح صاف و شفاف ہوتے ہیں۔

گل بہ قدرِ غنچہ گردیدن پریشان می شود

تفرقہ آئینہ اندازہ جمعیت است[9]

ترجمہ: پھول غنچہ ہونے کے مطابق کھلتا ہے، گویا نااتفاقی، جمعیت و اتفاق اور ملاپ کی مقدار کے مطابق ظہور پذیر ہوا کرتی ہے۔

یہ بیدلؔ کے ہی طرزِ نگارش اور اسلوب کا خاصا ہے کہ اس طرح انسانی اخلاق اور عظمت کی کنجی اعتدال کو بڑے قریبے اور سلیقے سے واضح کیا۔ بے شک غنچہ جتنا اپنے اندر سکڑتا ہے اس کی پتیاں آپس میں جس قدر پیوست ہوتی ہیں، کھلنے کے بعد جب وہ پھول بنتا ہے تو اس کی پتیاں اسی قدر پریشان ہوتی ہیں۔ اس شعر میں ہمیں اعتدال کا دامن پکڑے رہنے کی ہدایت ہے کہ نہ اتنے میٹھے ہو جاؤ کہ کوئی نگل جائے اور نہ اتنے کڑوے بنو کہ کوئی تھوک دے۔ جو گھر اتفاق و محبت کے لیے مثال دیے جاتے ہیں وہی گھر جب ٹوٹتے اور بکھرتے ہیں تو ان کے درمیان نفرت بھی اسی طرح زیادہ ہوتی ہے جتنی کہ محبت زیادہ تھی۔ بیدلؔ نے کتنی خوبصورتی سے غنچے اور پھول کی مثال سے انسانی اتحاد اور پھر نفرت و عناد کی حقیقیت واضح کی ہے اور یہ حقیقت ہی ایسی ہے جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں، محبت اور لگاؤ میں یقیناً ایک اعتدال رکھنا چاہیے تاکہ نفرت کے وقت بھی اعتدال میں رہا جا سکے۔

عزت ترکِ تجمل از کرم افزوں تر است

سر بگر دوں می فراز د نخل چوں بے بر شود[10]

ترجمہ: زینت و زیبائش کو چھوڑ دینے کی عزت، کرم فرمائی کی عزت سے زیادہ ارفع مقام رکھتی ہے۔ درخت جب پھل دینا چھوڑ جائے، تو اس کا سر آسمان کی طرف زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔

بیدل ؔنے اس شعر میں دنیا کی شان و شوکت اور ظاہری آرائش و زیبائش کے ساتھ زندگی گزارنے سے زیادہ آرائش و زیبائش کے بغیر زندگی گزارنے کی ترغیب دی ہے۔ شاعر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اگرچہ ظاہری آرائش بھی عزت کا سامان اور وجہ ہے مگر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس زیبائش کے بغیر جو عزت کا حصول ہے وہ زیادہ قیمتی اور معتبر ہے اور ان لوگوں کا مقام پہلے لوگوں سے زیادہ ہے۔ جس طرح ثمر دار درخت پھل کے بوجھ کی وجہ سے جھکا رہتا ہے اسی طرح ظاہری، زیبائش والا شخص بھی دنیاویرکھ رکھاؤ میں الجھا رہتا ہے اور بغیر پھل والا درخت زیادہ بلند اور ارفع ہوتا ہے۔ظاہری زیبائش کے علاوہ اس کا مطلب دنیا کا احساس بھی ہو سکتا ہے کہ اگر انسان دنیا داروں کا احساں نہ لے تو ان کا شرمندہ بھی نہ ہو سکے گا۔ بیدلؔ نے اِسی مضمون کو یوں بھی بیان کیا ہے:

چُو سرو بے طمع از دہر باش و سر بفراز

کہ نخلَ بار و راز منتِ زمانہ دوتایست [11]

ترجمہ: سرو کی طرح زمانے سے بے طمع رہ اور اپنی گردن اٹھا کر چَل، اس لیے پھل دار درخت زمانے کے احسان سے جھکا رہتا ہے۔

بر خلقِ بے بصیرت تا چند عرض جوہر

بایداز شہرِ کوراں، چُوں نورِ دیدہ رفتن [12]

ترجمہ: عقل کی اندھی مخلوق پر کب تک اپنے کمالات کا اظہار کیا جائے؟ اندھوں کے شہر سے تو اس طرح نکل جانا چاہیے جس طرح آنکھ کا نور آنکھ سے نکل جاتا ہے۔

بیدل ؔاس شعر میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ عقل کے اندھے لوگ، صاحبانِ علم اور اربابِ کمالات کی عزت اور قدر نہیں کرتے۔ اس لیے اربابِ کمالکو چاہیے کہ ایسے لوگوں پر اپنے کمالات کا اظہار کر کے وقت ضایع کرنے کی بجائے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کریں اور یوں ان سے دور رہیں جیسے آنکھ سے نور نکل جاتا ہے یعنی نہ تو کبھی لوٹ کر آئیں اور نہ ہی ان کی سوچیں، بلکہ اپنا قیمتی وقت ان لوگوں کے ساتھ گزاریں جو کہ اربابِ کمال کے قدردان اور عزت کرنے والے ہیں یعنی خود بھی روشن عقل کے مالک ہوں۔

صحبتِ نا جنس گر جاں بخشت الفت مگیر

آب رادیدی کہ ماہی رابہ دام افگند و رفت [13]

ترجمہ: ناجنس کی صحبت اگر تجھے زندگی بھی عطا کرے تو اس سے محبت نہ کرنا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ پانی مچھلی کو جال میں پھنسا کر آگے نکل جاتا ہے۔

بیدل ؔاس شعر میں ایک باریک نکتے کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے اور واقعی اعلیٰ اخلاق کے حامل شخص میں ہی یہ طرز پائی جا سکتی ہے کہ وہ غیر جنس سے محبت نہ کرے۔ شاعر نے مچھلی اور پانی کی مثال دی ہے کہ مچھلی پانی سے بہت پیار کرتی ہے مگر دونوں کی جنس ایک نہیں اور مچھلی پانی کے بغیر ایک لمحہ بھی رہنا نہیں چاہتی اور رہ بھی نہیں سکتی۔ گویا پانی مچھلی کے لیے زندگی کی علامت ہے مگر جنس ایک نہ ہونے کی وجہ سے پانی ایک نہ ایک دن اس سے ہاتھ کر ہی جاتا ہے اور کسی دن ضرور مچھلی کو ماہی گیر کے جال میں پھنسا کر خود آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس سے ہمیں بھی سبق لینا چاہیے کہ اپنے ہم جنس سے محبت و دوستی کریں نہ کہ کسی غیر جنس سے۔ اسی طرح جاہل اور گمراہ لوگوں سے بھی محبت نہیں رکھنی چاہیے۔ نہیں تو انجام مچھلی والا ہی ہوگا۔

لطفے، امدادے، مدارے، نیازے، خدمتے

اے زمعنیٰ غافل! آدم شو بہ ایں مقدار ہا [14]

ترجمہ: کسی پر مہربانی، کسی کی مدد، کسی سے مروت اور کسی کی خدمت کر۔ اے حقیقت سے بے خبر انسان! اگر انسان بننا ہے تو ان صفات کا انسان بن۔

اس شعر میں بیدلؔ ہمیں انسانی خدمت اور بھائی چارے کا درس دے رہا ہے کہ انسان تو سارے ہی ہیں لیکن اصل انسان وہ ہے جو کسی سے مہربانی، مدد، مروت اور خدمت گار کے طور پر پیش آئے اور واقعی اگر تو انسان ہے تو یہ ساری صفات خود میں پیدا کر۔ خدمت کا جذبہ ہی تمام انسانی صفات سے اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔ معاشرے کے معذور، بے سہارا، محتاج اور ضرورت مند افراد کی بدنی یا مالی امداد کرنا، کسی کے جائز کام کے لیے اس کے ساتھ چلنا یا توجہ دلانا یہ سب خدمت ہی کے ضمن میں آتا ہے۔ مگر پھر بھی انسان تب اصل انسان بنے گا اگر یہ سب خدمتیں خلوص، محبت اور صحیح نیت سے خدا کے لیے کی جائیں۔

بگذر زِ غنا تانشوی دشمنِ احباب

اول سبقِ حاصلِ زر ترکِ سلام است [15]

ترجمہ: تو دولت مندی کو چھوڑ دے، تاکہ دوستوں کا دشمن نہ بن جائے، کیوں کہ حصولِ زر کا پہلا سبق احباب سے سلام کا انقطاع ہوتا ہے۔

اہل اللہ اور تمام صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے صرفِ نظر برت کر انسانوں سے محبت اور سلوک قائم کیا جائےاور یہی انسانیت کی اصل معراج ہے۔ بیدل ؔبھی اپنے اس عمدہ اور کمال شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہاہے کہ دولت کو حاصل کرنے کی لالچ اور ہوس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی انسان دولت جمع کرنا شروع کر دے تو اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے قطع تعلق ہو جاتا ہے اور سلام تک کی نوبت پیش نہیں آتی اور دولت مند چاہتے نہ چاہتے اپنے احباب کا دشمن ہو جاتا ہے۔

مرد یکی ہیچ جامہ ندارد بہ اتفاق

بہتر زجامہ ای کہ در و ہیچ مرد نیست [16]

ترجمہ: وہ انسان جو کسی وجہ سے یا اتفاق سے قیمتی لباس زیبِ تن کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس آدمی سے بدرجہا بہتر ہے جس کا لباس تو قیمتی اور زرق برق ہو اور وہ خود آدمیت کی اقدار سے عاری ہو۔

بیدل ؔنے اس شعر میں ایک لافانی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ظاہری لباس اور حسن ،باطنی حسن کے سامنے ہیچ ہوتا ہے اور وہ شخص جو اچھی اقدار اور گفتگو سے آشنا نہیں مگر لباس اچھا پہنتا ہے تو وہ اس شخص سے بدتر ہے جو لباس تو پھٹا پرانا پہنے مگر اسے بات کرنے کا سلیقہ آتا ہو۔ عام سی بات ہے کہ لباس کی کمی کو تربیت پورا کر دیتی ہے مگر تربیت کی کمی کو لباس کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ بیدل ؔیہی اخلاقی سبق ہمیں دینا چاہتے ہیں کہ اچھے لباس کے ساتھ ساتھ اچھا لہجہ، گفتار اور تمیز کو بھی بہتر بنائیں اور یہ بھی لازم نہیں کہ جس آدمی نے گھٹیا یا پھٹا پرانا لباس پہنا ہوا ہو تو وہ کم عقل یا کج گفتار شخص ہوگا۔

بے مغذی و داری بمن سوختہ جاں بحث

اے پنبہ! مکن ہرزہ بہ آتش نفساں بحث [17]

ترجمہ: اے بحث کرنے والے! تو علم و دانش سے محرومی کے باوجود مجھ سوختہ جان سے بحث کر رہا ہے۔ اے روئی کے گالے! بہتر یہی ہے کہ تو ان سے بحث میں فضول نہ الجھ جن کی سانسوں سے شعلے نکل رہے ہیں۔

بیدلؔ نے بڑی خوبصورتی سے اہل علم و دانش کی رہنمائی کی ہے کہ جب کبھی بے عقل لوگوں کی یاوہ گوئی سنے بغیر کوئی چارہ نظر نہ آئے تو اہل علم و دانش کو کمال متانت سے کام لینا چاہیے اور انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے اور ان کی خرافات کو سننا چاہیے آخر کب تک وہ ہرزہ سرائی کریں گے کیوں کہ اہل دانش کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کم عقل،کم فہم اور بے لحاظ و بے حیا لوگوں سے الجھتے پھریں اور انھیں سمجھانے میں لگے رہیں۔ شاعر موصوف تو یہاں تک کہتے ہیں کہ انھیں آگ کی طرح جلتے رہنے دیں خود ہی شعلے کی طرح اپنی لپیٹ میں جل بھن کر خاموش ہو جائیں گے۔ اسی لیے بیدلؔ نے انھیں روئی کا گالا کہا ہے کہ جو اک شعلے کی لپک سے ختم ہو جائے گا۔

تغافل از بد و نیک اعتبار اہل حیا است

کہ سرخ روئیِ چشم آوُ رَد غنودن ہا [18]

ترجمہ:ہر نیک و بد سے بے اعتنائی اہل حیا کا طرہ امتیاز ہے کہ آنکھ کی سرخی غنودگی پر منتج ہوتی ہے۔

بیدلؔ کا ہر شعر خود میں جہانِ معنی رکھتا ہے مگر اس شعر میں اخلاقیات کا عمدہ درس ملتا ہے کہ بے حیا اور کم ظرف لوگ ہی دوسروں کی برائیوں پر نظر کرتے ہیں مگر جو لوگ انسانی معاشرے کے نیک سیرت اور بلند کردار افراد اپنے دوسرے ہم جنسوں کے اعمال نیک و بد کے سلسلے میں تغافل سے کام لیتے ہیں دراصل وہی افراد شرف اور حیا کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ انھیں دین و دنیا میں کامیاب کرنا چاہتا ہے تو اہل دنیا کے اچھے برے اعمال سے بے نیا زکر دیتا ہے اور جب یہ لوگ لوگوں کے بدکردار افعال سے صرفِ نظر کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ لوگ غافل ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا وہ تو صرف اپنے گریبان میں جھانکنے میں مصروف ہیں اسی لیے دوسروں کے عیب نہیں دیکھ پاتے، خوبیاں نہیں دیکھ پاتے اور اسے ہی محاسبہ ذات کہا جاتا ہے یعنی اخلاقیات کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرتا رہےاور ہر وقت خود کو خدا کے حضور تصور کرے۔ اسی طرح وہ دنیا داروں کے اعمال سے بے خبر رہے گا مگر ظاہری۔

تعظیم ناتواناں دشواریِ ندارد

بر عضو یا گراں نیست، بالا نشینیِ مُو[19]

ترجمہ: کمزروں کی عزت کرنے میںکوئی دشواری نہیں، کیوں کہ بدن کے اعضا پر بالوں کا ہونا انھیں گراں نہیں گزرتا۔

بیدل ؔنے اس شعر میں صاحبِ ثروت اور طاقتور لوگوں کو مخاطب کیا ہے اور کہا کہ طاقت ور اور صاحبِ حیثیت شخص کے لیے ناتوانوں کی مدد کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بوجھ نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ بدن کے اعضا پر جو بال اگتے ہیں ان کا بوجھ بدن کے اعضا کو کبھی محسوس نہیں ہوا۔ اسی طرح بدن کے اعضا صاحبِ ثروت لوگ ہیں اور بال وہی غریب، نادار اور ناتواں لوگ ہیں۔ معاشرے میں سانس لینے والے ناتواں اور غریبوں کی مدد کے ساتھ ساتھ عزت بھی کرنی چاہیے اور انھیں معاشرے میں ایک مناسب مقام بھی دینا چاہیے اور یہی امرصاحبِ حیثیت لوگوں کے شایانِ شان ہے۔بیدلؔ کے ہاں رجائیت اور اخلاق کا پہلو اتنا بلند ہے کہ جنت سے آدم کے نکالے جانے کو بھی ایک نئے آہنگ اور امنگ سے پیش کرتے ہیں اور خود کو اور انسانوں کو نئی امنگ سے جینے کی تلقین کرتے ہیں۔

چوں دریں تیرہ خاکداں افتاد

آفتابے ز آسماں افتاد[20]

ترجمہ: جب اس اندھیرے (دنیا) میں انسان آیا تو جیسے آسمان سے آفتاب آ گیا (اور اس میں رونق پھیل گئی۔)

بیدلؔ نے لطیف نکتہ اور حیران کن انسانی عظمت کی بات پیدا کی ہے کہ آج تک شعرا جِسے ذلت اور گناہ سمجھتے رہے ہیں بیدلؔ نے اسے بھی اخلاقیات کا حصہ بنا کر سمجھنے اور آگے بڑھنے کا ذریعہ قرار دیا ہے اور اب اسی بے آباد خرابے میں جینے کی تمنا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا نے یہ کائنات بے سود تو پیدا کی ہی نہیں۔ اس لیے شاعر موصوف کے مطابق دل لگا کر اور دل جمعی سے اس کائنات کو تسخیر کرنے کی بھر پور کوششیں کرنی چاہییں اور پروردگار نے انسان کے ہی دم سے اس دنیا و کائنات کو رونق بخشی ہے جیسے آفتاب دنیا کو رونق بخشتا ہے اور دنیا کی ہر شے اس سے فیض پاتی ہے۔ بیدلؔ کی شاعری میں اخلاقیات اور مذہبی پہلو کے علاوہ شعری چاشنی اور ندرت کا بھی اندازہ لگایا جا ئے تو یہ شاعری بار بار پڑھی جانے کے قابل ہے اور اسے ہر اہل نظر محبت اور خلوص کی نگاہ سے دیکھے گا اور پڑھے گا۔

حاصل کلام

بیدلؔ کی خاصیت میں اس کی فکر اور اسلوب کو بڑا دخل ہے اسی وجہ سے بعد کے فارسی اور اردو شعرا نے اس کا تتبع کیا ہے۔ یاسر جواد اس ضمن میں لکھتے ہیں: بیدلؔ اردو کا شاعر نہیں لیکن اس کا اثر اردو شاعری پر بہت گہرا پڑا ہے۔ بیدل ؔکے اثر کی دو صورتیں ہیں۔ ایک "طرز ِ بیدلؔ" جو نئی تراکیب، خوبصورت بندشوں، لطیف استعاروں اور نادر تشبیہات کا مرکب ہے اور دوسرے "فکرِ بیدلؔ" جس میں خیالات کو تجربات باطنی اور واردات قلبی نے آئینہ دکھایا ہے۔ [21]اس بات میں شک نہیں کہ بیدلؔ نے واقعی میں اپنی ندرت پسندی اور نادر خیالات و فکر سے خود کو معاصرین اور متاخرین میں یکساں منوایا۔ پروفیسر نبی ہادی، بیدلؔ کی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں:(ان) طویل مصرعوں میں دیوتاؤں کے سامنے ناچنے والی رقاصاؤں کے اعضائے بدن کی طرح لفظ لچکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یقیناً نغمہ و شاعری ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں، مگر رقص اور شعر میں براہ راست فطری مناسبت کی دریافت بیدل ؔکا خصوصی کارنامہ ہے۔ [22]بیدلؔ شناسی میں کچھ کمی ضرور آ گئی ہے مگر آج بھی اہلِ علم و فہم جانتے ہیں کہ بیدل ؔکو پڑھے اور سمجھے بغیر شاعری میں خیال کی اپج کا حصول ناممکن ہے۔ نادر تشبیہات و استعارات کا برملا استعمال اور روز مرہ کی خوبی ، محاورے کی چستی یہ کلامِ بیدلؔ میں جا بجا نظر آتے ہیں۔


  1. میرزا اسد اللہ خان غالب، دیوانِ غالب، مرتبہ: پروفیسر حمید احمد خان (لاہور:مجلس ترقی ادب، 1992ء)،212۔
  2. یاسر جواد، انسائیکلو پیڈیا ادبیاتِ عالم (اسلام آباد:اکادمی اکادبیات پاکستان، 2013ء)،591۔
  3. ایضا۔
  4. ابو الاعجاز حفیظ صدیقی، ادبی اصطلاحات کا تعارف،(لاہور: اسلوب، اشاعت اول،2015ء)،20۔
  5. نصیر الدین نصیر گیلانی، محیطِ ادب(گولڑہ شریف: مہریہ نصیریہ پبلشرز، 2016ء)، 8۔
  6. ایضا۔، 8۔
  7. ایضا۔، 16۔
  8. ایضا۔، 7۔
  9. ایضا۔، 11۔
  10. ایضا۔، 12۔
  11. ایضا۔، 13۔
  12. ایضا۔، 14۔
  13. ایضا۔،15۔
  14. ایضا۔، 18۔
  15. ایضا۔، 23۔
  16. ایضا۔، 50۔
  17. ایضا۔، 66۔
  18. ایضا۔، 78۔
  19. ایضا۔، 89۔
  20. ایضاً۔، 109۔
  21. نبی ہادی، میرزا بیدل، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی، 2009، 14۔
  22. انسائیکلو پیڈا ادبیات عالم، 591۔


حوالہ جات