عبد الحق کی اقبال شناسی

From Social Sciences & Humanities
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مذاکرات
عنوان عبد الحق کی اقبال شناسی
انگریزی عنوان
Abdul Haqs Understanding of Iqbal
مصنف اقبال، محمد عامر
جلد 1
شمارہ 1
سال 2021
صفحات 7-19
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Iqbal, Abdul Haq, India, Poetry
شکاگو 16 اقبال، محمد عامر۔ "عبد الحق کی اقبال شناسی۔" مذاکرات 1, شمارہ۔ 1 (2021)۔

Abstract

Abdul Haq, India’s most popular researcher and literary figure, got retirement from the University of Delhi as dean of the Department of Urdu. For the very first time in India, he selected Iqbaliat as his doctorate topic. His books on Iqbaliat highlighted various unexplored topics and personalities. He presented and preached Iqbal’s thoughts and quotations exactly the way Iqbal wanted them to be presented. His articles on Iqbal always received great appreciation from all the literary circles and conferences in which he presented them. As a profound lover and having an understanding of Iqbal’s poetry, he gave new dimensions to his poetry, previously unknown to the world. Furthermore, as a researcher, he discussed numerous scholars who claimed to have an understanding of Iqbal’s poetry and analyzed their work critically. The current study is an acknowledgement of Professor Abdul Haq’s endeavors in the field of education, literature and his services for Iqbaliat. Moreover, the present study encompasses his written publications on the topic of Iqbaliat.

تلخیص

پروفیسر عبدالحق ہندوستان کے معروف محقق اور منفرد نقاد ہیں۔آپ پہلے محقق ہیں جنہوں نے ہندوستان میں اقبالیات کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے اقبالیات پر بہت سی تصانیف قلم بند کی ہیں اور بہت سی معروف شخصیات کی اقبال شناسی پر قلم اُٹھایا ہے۔آپ نے کئی کانفرنسوں میں مقالہ جات پیش کیےجنہیں بہت سراہا گیا۔آپ نے اقبال کے افکار اور شاعری کے پوشیدہ گوشوں کو اقبال کے نظریات کے عین مطابق پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس مضمون میں پروفیسر عبدالحق کی اقبال شناسی اور علم و ادب کے میدان میں کی جانے والی کاوشوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ پروفیسر عبدالحق کا موقف ہے کہ اقبال نے مرثیے کو جاری شدہ روایات سے نکالا۔اقبال کا تخلیقی ادب دنیا بھر میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔اقبال کا شاعرانہ انداز اپنے اندر فکر کا سمندر لیے ہوئے ہے۔دانش کا مستحق وہ ہے جسے اقبالیات سے شغف ہے۔اقبال نے مغربی ادب کا مطالعہ بہت گہرائی سے کیا اور اپنے افکار کی ترویج کے لیے مغربی ادبیات کا استعمال بھی کیا۔پروفیسر عبدالحق نے اپنی تصانیف میں اقبال کی شاعری سے عمدہ انتخاب پیش کرتے ہوئے اقبال کے قومی وحدت کے جذبے کو اجاگر کیا ہے۔پروفیسر عبدالحق نے اقبال کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ذمہ دار ناقدین اور شارحینِ اقبال کو ٹھہرایا ہے۔آپ نے اپنی تصانیف میں ایسے پہلو اجاگر کیے ہیں کہ قاری سوچنے اور غور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس مضمون کے مطالعہ سے تحقیق اور تنقید کے بہت سے نئے پہلو سامنے آتے ہیں جو اقبالیات کے طلبا کے اذہان کی کشادگی کا باعث ثابت ہوں گے۔

عبد الحق کی مختصر سوانح

پروفیسر عبدالحق 2مارچ 1939ء کوپہاڑپور میں پیدا ہوئے جو اتر پردیش میں تحصیل مچھلی شہر ضلع جون پور کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ آپ کے والد کا نام تصور حسین اور والدہ کا نام بشیر النساء تھا۔ آپ کی پہلی شادی 1954ء میں آپ کے تایا اشرف علی کی بیٹی بانو بیگم سے ہوئی۔اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی۔ شادی کے بارہ سال بعد آپ کی اہلیہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئیں۔ 1981ء میں محترمہ ناہیدالرحمن سے دوسری شادی ہوئی۔ آپ کی چار بیٹیاں ہیں۔ صائمہ حق، شفا حق، سما حق اور چوتھی بیٹی کا نام سارہ حق ہے۔ تمام بچیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی قابل ہیں۔پروفیسر عبدالحق نے مچھلی شہر کے سرکاری اسلامیہ سکول میں درجہ چہارم میں داخلہ لیا اس کے لیے انہیں روزانہ پانچ کلو میٹر پید ل آنا جانا پڑتا تھا۔ پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد شہر کے سکول میں داخلہ لیا اور وہیں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ مڈل سکول سے فراغت کے بعد شہر کے ہائی سکول سے میٹرک کیا۔ پھر گورکھپور آگئے۔ اسلامیہ انٹر کالج گورکھپور سے ایف اے کیا۔1957ء میں گورکھپور کالج کو ڈگری کا درجہ ملا اور پروفیسر عبدالحق بھی داخل ہو گئے۔ بی۔ اے میں انگریزی،اردو اور جغرافیہ کے مضامین پڑھے۔ مجنوں گورکھپوری سے فیض حاصل کیا اور 1960ء میں بی اے پاس کیا اور پھر1962ء میں ایم۔ اے اردو کیا۔ڈاکٹر محمود الٰہی، رشید احمد صدیقی اور مجنوں گورکھپوری انتہائی معتبر اساتذہ کرام تھے جن کے علم و ہنر سے ایک زمانہ فیض یاب ہوتا تھا۔ اقبالیات آپ کا خاص موضوع رہتا تھا۔ پروفیسر عبدالحق کی شخصیت پر بھی ان اساتذہ کا بہت زیادہ اثر تھا۔ اس طرح اردو کے ساتھ ساتھ اقبالیات کا میدان بھی پروفیسر عبدالحق کی پہچان بن گیا۔ آپ نے1962ء میں اقبالیات پر تحقیق کا ارادہ کیا اور دسمبر1965ء میں اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کر لیا۔

علمی کام

آپ کے علمی کارناموں پر نگاہ دوڑائی جائے تو کتب کا گنج ہائے گراں مایہ ہے جو تحقیق و تنقید کی دولت سے مالا مال ہے۔ اگر صرف اقبالیات کے حوالہ سے بات کریں تو آپ کی جوکتب ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ان میں دو مرتّبہ اور ایک ترجمہ ہے۔کتب کے نام یہ ہیں۔1۔اقبال کے ابتدائی افکار،1969ء2۔ تنقید اقبال اور دوسرے مضامین،1976ء3۔فکر ِ اقبال کی سرگذشت،1989ء4۔ اقبال اور اقبالیات (دوسرا ایڈیشن)2009ء5۔اقبال۔شاعر رنگین نوا،2009ء6۔ اقبال کا حرف شیریں،2014ء7۔ محمد اقبال (مونوگراف) 2015ء8۔ علامہ اقبال (مونو گراف)2016ء9۔اقبال کے شعری اسالیب1978ء10۔اقبال کے شعری و فکری جہات 1998ء11۔ سارے جہاں سے اچھا۔۔۔۔(مونوگراف)2009ء12۔ بکھرے خیالات (اقبال کی ڈائری کا انگریزی سے اردو ترجمہ)اضافے کے ساتھ تیسرا ایڈیشن 2015ء یہ ترتیب صرف اقبالیات سے متعلق کتب کی ہے اگر دیگر کتب کو بھی شمار میں لایا جائے تو تعداد تقریباً باون تک پہنچ جاتی ہے۔

پروفیسر عبدالحق نے اپنی تصانیف میں اقبالیات کے حوالہ سے مضامین شامل کیے ہیں۔ یہ مضامین مختلف سیمیناروں میں پڑھے اور سنائے گئے۔ ریڈیو پر بھی پڑھے گئے۔ مختلف جامعات کی تقریبات میں پڑھے گئے۔ آپ نے فکر اقبال کو اقبال ہی کے انداز اور خیال کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ خلوص آپ کو اس مقام پر لے گیا کہ شاعری میں شاعر حضرات مشاعرہ لوٹتے ہیں جبکہ پروفیسر عبدالحق کانفرنس میں مقالہ پڑھتے تھے تو کانفرنس لوٹ لیتے تھے۔ آپ کا انداز مکمل طور پر تحقیقی اور تنقیدی ہے۔ آپ کی تصانیف میں جن شخصیات اور کتب کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے وہ تحقیق و تنقید کی عمدہ ترین مثال ہے۔آپ نے اپنی تصنیف”تنقید اقبال اور دوسرے مضامین“ میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے ”اقبال اپنے معاصرین کی نگاہ میں“۔اس میں ارشد گورگانی کے وہ تعریفی کلمات ہیں جو لاہور کے مشاعرے میں اقبال کے لیے کہے تھے۔پھر ایک طویل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے جس میں شبلی نعمانی، خواجہ حسن نظامی، عطیہ فیضی، سر عبدالقادر،مولانا میر حسن، منشی محمد دین فوق سیالکوٹی، سید نذیر نیازی، عبدالمجید سالک، علی بخش جو ہر دم اقبال کے ساتھ رہا، اقبال کا ملازم اور رفیق۔ مولانا ظفر علی خان، پروفیسر رینالڈ اے نکلسن، سرراس مسعود، مہاراجہ سرکشن پر شاد،سراکبر حیدری، یہ سب اقبال کے پرستاروں میں شامل تھے اور سیاست کے میدان میں پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی تعلق تھا۔

ادب کی دنیا میں حفیظ جالندھری اور اکبر الہ آبادی کے بھی اقبال سے بہت عمدہ تعلقات تھے۔ اس حوالہ سے پروفیسر عبدالحق لکھتے ہیں:"یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقبال کا دور بر صغیر کے تاریخ ساز افراد وافکار کے اختلاط کا دلنشیں مرکب ہے ہماری تہذیبی تاریخ کے کسی دور میں ایسی بلندو بالا شخصیتوں کا اجتماع کبھی نہیں ہوا۔ اس اجتماع میں اقبال کی شخصیت مہر درخشاں کی سی ہے۔“[1]

افکار اقبال کا مطالعہ

اس طرح اقبال کے افکار کو مسلسل پروان چڑھنے کا موقع ملااور ہمارے سامنے فکر اقبال کا مرقع آیایہی چیز”اقبالیات“ کا موضوع بنی اور اس پر تحقیق اور تنقید کے راستے کھلے۔ کسی نے اقبال دشمنی کا فریضہ ادا کیا تو کسی نے حب اقبال سے دلوں کو سکون عطا کیا۔ اصل چیز تحقیق اور تنقید ہوا کرتی ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے تحقیق و تنقید کےاصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہی بات لکھی ہے جو کہ اقبال لکھنا چاہتے تھے۔

اقبال نے مرثیے کو جاری شدہ روایات سے نکالا۔میرانیس کے کلام کو سند کے طور پر پیش کیا۔ شخصی مرثیے کے حوالے سے حالی ؔ کی تعریف کی اور اسے شعری اجتہاد قرار دیا۔ اقبال نے اپنے مرثیوں میں موت و حیات کا فلسفہ بیان کیا۔آپ نے اپنے مرثیوں میں موت کو تجدید ِ زندگی قرار دیا اور موت کو بیداری کا پیغام قرار دیا۔اقبال کی نظموں میں مرثیے کا رنگ پایا جاتا ہے۔اقبال نے شخصیات اور جگہوں کی بجائے حادثے کی سنگینی کو موضوع بنایا۔اقبال نے انتہائی سوزو گداز سے معرکہ کربلا کو موضوع بنایا ہے۔ امام حسین ؓ کی قربانی کا ذکر کیے بغیر زندگی میں نہ تو سوز پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی زندگی کے ساز چھیڑے جا سکتے ہیں۔ حریت کی داستان بھی حسین ؓ سے منسوب ہے اور زندگی میں حرکت کے حصول کے وسیلے بھی ذکر حسین ؓ سے ہی وابستہ ہیں۔ امام حسین ؓ کی زندگی میں ہی آزادی کا پیغام پوشیدہ ہے۔ اس لیے اقبال نے بدر و حنین کی حقیقت کو بھی حسین ؓ سے منسوب کیا ہے پروفیسر عبدالحق نے اپنے ایک مضمون ”اقبال اور مقام شبیری“میں اس کی وضاحت کچھ اس طرح کی ہے: "وہ اگر چہ معرکوں میں بذات خود شریک نہیں ہوئے۔ مگر ان کے آباؤ اجداد کی ظفریابی اور دعوت و عزیمت نے معرکہ کے ان میدانوں کو خون شہیداں سے لالہ زار کیا تھا۔ کلام میں بیشتر مقامات پر انہیں نسبتوں کاذکر ہوتا ہے۔ تقریباََ تمام مجموعہ ہائے کلام میں اس عظیم شخصیت اور ان کے شعار زندگی کا ذکر ناگزیر طور پر سامنے آتا ہے۔“ [2]

اقبال نے رثائی ادب کا بغور مطالعہ کیا تھا ہم اقبال کو حالی کی توسیعی صورت کہہ سکتے ہیں۔فکر ِ اقبال میں اس موضوع کے حوالہ سے خاطر خواہ مواد موجودہے۔ حریت کے قافلے کی قیادت کے لیے ہمیں اس سے اچھی رہنمائی کہیں اور میسر نہیں آسکتی۔پروفیسر عبدالحق نے اقبال کے عمومی اثرات کو موضوع بناتے ہوئے اقبال کے فکرو فلسفہ اور اس کے ا ثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ اقبال کے شعر میں جو اثر پایا جاتا ہے اقبال کے فلسفہ سے اختلاف کرنے والے بھی اس تاثر سے نہیں نکل پائے۔ پروفیسر موصوف کا موقف ہے کہ: "شعر اور فلسفے کا ایسا خوبصورت امتزاج دنیا کے ادب میں بہت کم یاب ہے۔[3]“یہ باتروزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ اقبال کا تخلیقی ادب دنیا بھر میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ اقبال کے فلسفے کی خصوصیت ہے کہ وہ حرکی نظام کو مد نظر رکھتے تھے۔

اقبال کا حرکی نظام عمل کی رو سے ظاہر اور حقیقت کی رو سے مضمر ہے۔ اقبال کو سمجھنا بھی مشکل ہے اور اس کے کلام کی شرح اس سے بھی مشکل کام ہے۔ اس لیے اقبال کی پیروی ناممکن ہے۔ صرف اقبال سے محبت ضروری نہیں بلکہ اس کے شعرو فلسفہ کو سمجھنا بھی لازم ہے۔ اقبال کی فکر تجربات اور مشاہدات سے بھرپور ہے۔ مخالفین نے اقبال کے انقلابی پیغام کو مارکس اور لینن سے برتر قرار دیا ہے۔ امریکہ کے ایک سرکاری رسالے میں وہاں کے نوجوانوں کی اقبال سے رغبت اس بات کی دلیل ہے کہ اقبال کی فکر تمام حدودو قیود سے ماورا ہے اور ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی فکر اقبال سے متاثر تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبال نے جو دستور ساز پیغام پیش کیا ہے وہ ہر بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ فکر اقبال پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ ہمیں اس سے مدد لے کر جمہوریت کو بچانا ہو گا اور معاشرے کی ترقی کے لیے مثبت قدم اٹھانا ہوگا۔ اقبال کو صرف شاعر سمجھ لینا دراصل اقبال کی ناقدری ہے۔ پروفیسر عبدالحق اپنے ایک مضمون ”اقبال کا شعری آہنگ“ میں رقم طراز ہیں:"اقبالیات کے مطالعہ سے یہ بات ذہن نشین ہوتی ہے کہ وہ فن پر خاطر خواہ متوجہ ہیں۔ ان کی بعض اہم نثری تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں فن شاعری سے کم دلچسپی ہے اور انہوں نے چند خاص مقاصد کے بیان کے لیے شعری اسلوب اختیار کیا ہے۔ ا ن کے نزدیک حقائق ملی اور اخلاقی ہیں۔"[4]اگر کسی کا فلسفہ اس کی شاعری کے مفہوم سے ہم آہنگ ہو تو یہ بہت عظمت کا مقام ہے۔ اقبال اس حوالہ سے مفکر شاعر تھے مگر عوام الناس نے انہیں سمجھنے میں کوتاہی کی ہے قوم پرست اور ترقی پسند اقبال کے خلاف زہر اگلتے رہے۔زبور عجم کی غزلیات، بال جبریل کی غزلیات یا دیگر کلام میں فلسفہ اور فکر کی ہم آہنگی سے دلچسپ سما بندھ جاتاہے۔ آہنگ ہی کے حوالہ سے پروفیسر عبدالحق لکھتے ہیں:

"اقبال نے آہنگ سے ایک اور کام لیا ہے۔ ان کی طویل اور مشہوور نظموں کے مختلف بندوں کو لیجیے۔ہر بند میں ایک نیا موضوع ہے۔ مثلاََ مسجد قرطبہ کو لیجیے۔ پہلا بند زمان و مکاں سے متعلق ہے۔ دوسر ا عشق کی ابدیت پر مشتمل ہے۔ تیسرا فن کے دوام کا ذکر کرتا ہے۔ چوتھا اور پانچواں مرد کامل پر محیط ہے۔ اسی طرح سے دوسرے بند بھی ہیں۔ اگر انہیں علیحدہ کردیں تو بآسانی بال جبریل کی غزلوں میں شامل ہو جائیں گے اور اگر ان کا عنوان قائم کر دیں تو کئی نظمیں وجود میں آئیں گی۔" [5]

فکر اقبال کا دفاع کرنے والے مخالفین کا راستہ روکنے میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ اہل زبان جو اقبال کے زبان و بیان پر اعتراض کرتے نہ تھکتے تھے۔ مثلا"تاجورنجیب آبادی نے بڑے مربیانہ انداز میں جگن نا تھ آزاد کو تلقین کی کہ اقبال بڑے شاعر ضرور ہیں لیکن زبان و بیان کے باب میں مستند نہیں کیونکہ ان کے یہاں کئی اغلاط ملتے ہیں مثلاانہوں نے غار کو مونث باندھا"۔[6]صرف اس بات کو اعتراض کا باعث قرار دینا ادبی قابلیت نہیں۔ اس سے اقبال کے آہنگ کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس آہنگ کی بنا پر اقبال نے تصوف کو بھی پروان چڑھایا۔ شاعری کو تصوف کے لیے دلچسپ صنف سمجھا جاتا ہے۔ شاعرانہ انداز سخن میں مجاز کو حقیقت کا رنگ دیا جا سکتا ہے اور اس کا متضاد رویہ بھی دلچسپ ہے۔ اقبال جیسے مفکر شاعر کو بھی اپنے حصار میں لے لیا۔ اسلام میں تصوف ایک نیا موضوع تھا۔ اس میں عجمی اور ہندی تصورات کی بھرمار پائی جاتی ہے۔مذہب انسانیت کو دنیا کی تعلیم دیتاہے ترک دنیا کی نہیں۔ اقبال نے قرآن کو اسلام کا مآ خذ قرار دیا۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے مضمون ”اقبال اور تصوف“ میں لکھا ہے کہ: "مطالعہ اقبال میں قرآن ہی اصل الاصول ہے باقی فروعات و تاویلات کا دفتر بے معنی۔" [7]

پروفیسر عبدالحق کے مضمون میں فکرو فلسفہ کی گہرائی پائی جاتی ہے۔ اس سے اقبال کے کثرت مطالعہ کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پروفیسر عبدالحق نے تصوف اور اقبالیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعہ کے باعث یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اقبال کی تحریروں میں تحریف اور من گھڑت تعبیر سے کام لیا جاتا ہے اصل عبارت کو جان بوجھ کر تبدیل کرنا ظلم ہے۔ وہ تبدیلی خواہ نیک دلی سے کی جائے غیر ارادتاََ سرزد ہو جائے یا پھر کسی اور مقصد کے تحت یہ تبدیلی کی گئی ہو رفتہ رفتہ یہ تبدیلی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اقبال کی لکھی ہوئی ہر سطر محفوظ ہے۔ سید مظفر حسین برنی نے کلیات مکاتیب اقبال جلد اول کے دیباچے میں واضح طور پر لکھاہے :"ابھی تک اقبال سے منسوب کوئی تحریر سراسر جعلی ثابت نہیں ہو سکی ہے۔" [8]اس تحقیق کے باوجود ڈاکٹر لمعہ حیدرآبادی کے نام خطوط جعلی ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر تحسین فراقی نے ان اغلاط کی نشاندہی کی ہے جو برنی کے مرتب کردہ کلیات مکاتیب اقبال کی مختلف جلدوں میں پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر تحسین فراقی لکھتے ہیں:"حیرت اور افسوس اس بات کا ہے کہ کلیات مکاتیب اقبال جلد دوم میں بھی ”ابن حزم“ کی فہرست درج ہے۔۷۴برس بعد دوبارہ شائع ہونے والا مکتوب بھی صحت متن سے محروم ہے“[9]پروفیسر عبدالحق نے عائشہ خاتون کے1983ء کے ایم فل کے مقالے کو غلط فہمی کی ابتدا قرار دیا جس میں اقبال بنارسی کے دو اشعار کو اقبال کی غزل میں شامل کیا گیا ہے۔ تہران سے احمد سروش کا مرتبہ کلیات اقبال فارسی کو بھی اغلاط سے لبریز قرار دیا گیا ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے مضمون ”اقبال کی تحریروں میں تحریف و تعبیر کی تشویش ناک صورتیں“ میں بہت سی اغلاط کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے:"راقم نے عرض کیا ہے وہ (اقبال)صرف شاعر نہیں ہیں۔ جہاں اسالیب و انداز تحریر پر اکتفا کر لینا ہی مقصود متن ہے۔ وہ مفکر بھی ہیں فکرونظر کے اظہار و ارتباط کے لیے حرف معنی بڑی معنویت رکھتے ہیں"۔[10]

اقبال کا شاعرانہ انداز اپنے اندر فکر کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ اقبال کے فکرو فلسفہ کو سمجھنا نا ممکن نہ سہی اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور پھر اس کی تمثیل مشکل ضرور ہے۔ اقبال کی شاعری میں آدم اور ابلیس کے قصوں سے کون واقف نہیں۔ نظم ”خضر راہ“ میں ابلیس نے جمہوری قبازیب تن کی ہے۔ یہ ابلیس ہی ہے جو ایوانوں میں زرگری کرتا ہے۔ سرمایہ داری کی بدترین سازشوں کا کھیل کھیلنے والی نیلم پری یہ ابلیس ہی ہے۔ ناداروں کے استحصال کے لیے قانون بھی ابلیس ہی مرتب کرواتا ہے۔ اور اشتراکی نظام کے زیر سایہ ابلیس کی پرورش ہوئی ہے۔ اقبال نے ابلیس کی مجلس شورایٰ کی محفل سجائی جو اقبال کی تخلیق اور فن کا سرمایہ ہے۔ اسے دیکھ کر کئی دوسرے لوگوں نے بھی ابلیس کی مجلسیں سجائیں۔ اقبال کا رنگ نمایاں ہے۔ اقبال اور کیفی کے بعد ڈاکٹر محمد حسن نے تیسری مجلس آراستہ کی۔ ابلیس کی چوتھی مجلس سید غلام سمنائی مرحوم نے منتخب کی۔ ان نظموں میں کہیں مارکسیت کے پیروکاروں کی جھلک نظر آتی ہے اور کہیں ترقی پسندوں کی۔ اقبال کا نکتہ نظر اور موقف بالکل مختلف تھا۔ پروفیسر عبدالحق لکھتے ہیں:"ان چاروں نظموں کے ذکر میں میرا معروضہ یہ ہے کہ اقبال ہر دور کے شعروفن کی سیرابی کرتے رہیں گی اور تخلیق کے امکانی جہات کی نشاندہی میں چراغ راہ گزر کا کام انجام دیں گے۔ یہ نظمیں میرے علم میں تھیں۔ نہ جانے ابھی کتنی اور تخلیقات ہوں گی جن تک میری رسائی نہ ہو سکی"۔[11]

اقبال کا مطالعہ درکا رہو تو اس کے چند اساسی پہلو سامنے رکھے جائیں۔اقبال کے فکرو فلسفہ کے ساتھ ساتھ اقبال کے ارتقائی اسلوب فکر کی ذہنی واردات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔ حب الوطنی سے آفاقیت، خودی سے بے خودی تک پہنچنے کے عمل میں جو اسلوب فکر کارفرما ہے اسے مدنطر رکھنا ہوگا۔ ان سب پر فلسفہ کا عمل کارفرما ہے۔ اقبال کے تین مآخذ۔ پہلا قرآن مجید دوسرا سرچشمہ مسلمان صوفیاء اور حکماء کے افکار و مشاہدات اور تیسرا مآخذ جرمنی فکر ہیں۔ہندوستان کے حالات، علی گڑھ کی تحریک، مشرق و مغرب، مذہب و سائنس اور جدید و قدیم کاا قبال کے ذہن میں رہنا، یہ تمام ارتقائی لمحات ہیں جو اقبال کے فکرو فلسفہ پر اثر انداز دکھائی دیتے ہیں۔ اقبال نے خطبات کے ذریعے اسلام کی جدید تشکیل کا فریضہ بھی انجام دیا۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے مضمون ”مطالعہ اقبال کے چند اساسی پہلو“ میں جن پہلوؤں کو اساس قرار دیا ہے اس میں و اقبال کے نظریہ قومیت کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس کی غلط تعبیر سے ہماری نسلوں کو انسانی روح تہذیب کی افہام و تفہیم سے دوررکھا گیا۔اقبال کے نظریہ

قومیت کی جو تفسیر ہمارے ہاں پائی جاتی ہے پروفیسر عبدالحق نے اس پر شدید اعتراض کیا ہے لکھتے ہیں:"میں ایک طالب علم کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ ذہنی سفر کے کسی دور میں بھی اقبال حب الوطنی یا ارض ہند کی محبت سے بے گانہ نہیں رہے۔ ان کے افکار میں وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے مگر جس وطنیت کا تصور سیاسی فکر بن کرانسانی ہییت اجتما عیہ کو پارہ پارہ کرتا ہے تو اقبال کی روح احتجاج کرتی ہے۔ ان کے نظریہ قومیت اور آفاقیت میں کسی طرح کا بعد نہیں"۔[12]

اقبال نے مختلف سیاسی نظام عدل جیسے خلافت، جمہوریت اور اشتراکیت کو بھی احتجاج میں شامل کیا۔ اقبال کے اندر ایک آتش فشاں تھا مگر اس کا اظہار پوری طرح نہ کیا گیا۔ نہ ہی عصررواں کے مفکرین نے ان باتوں کا بغور مطالعہ کیا۔ حالانکہ اقبال کی شخصیت، فکری سرگذشت اور تخلیق کے سرچشموں کا مطالعہ بہت ہی دلچسپ اور نتیجہ خیز ہے۔ ذہنی واردات اور ان کی کیفیات کا شدید احساس ہونے کے باوجود اقبال نے انہیں لکھنے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔1905ء سے1911ء کا زمانہ اقبال کی شخصیت اور فکروفن کے حوالہ سے بہت اہم ہے۔اس دوران اقبال کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زندگی کے نشیب و فراز سے دوچار ہونے کے باوجود اقبال نے صبر سے کام لیا۔ نہ حالات سازگار اور نہ ہی دل کو سکون۔پروفیسر عبدالحق نے اقبال کے ادوار کو اس طرح مرتب کیا ہے۔

فکراقبال کا ابتدائی دور1905ء یعنی سفر یورپ سے قبل کے زمانے پر مشتمل ہے۔ دوسرا تشکیلی دور قیام یورپ سے 1911ء تک متعین کیا جاسکتا ہے۔ اسے 1914ء تک یعنی اسرار خودی کی اشاعت تک بھی توسیع دی جاسکتی ہے لیکن1912ء سے1914ء تک کا درمیانی وقفہ بذات خود ایک دور ہے۔ اس دورکا کلام ایک داخلی اور بیرونی تلاطم سے دوچار رہے۔ ملکی اور عالمی سیاست کے قیامت خیز حالات نے ذہن اقبال کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور یہی حالات فلسفہ اسرار کے لیے محرک ثابت ہوئے ہیں۔ 1912ء سے1918ء تک کا زمانہ اسرار و رموز کا دور ہے۔ لہٰذا اسے فکر اقبال کا تیسرا دور کہا جا سکتا ہے۔[13]

پروفیسر عبدالحق نے دوسرے دور کی وضاحت کے لیے چار ماخذوں کا سہارا لیا ہے۔ ان میں عطیہ فیضی کی ڈائری،اس دور کی شاعری، عطیہ فیضی کو لکھے نجی خطوط اور اقبال کی اپنی ڈائری شامل ہیں۔ اس دور کے سوانحی اور شخصی اشارے عطیہ فیضی کی ڈائری سے دیکھے جا سکتے ہیں۔اقبال کے مزاج اور کوائف کا جائزہ اس دور کی ڈائری سے دیکھا جا سکتا ہے یہ شاعری زندگی کے لطف سے نکل کر فکرو شعور کی حدوں کو چھوتی ہے۔ مغربی تہذیب پر تنقید بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ عطیہ فیضی کو لکھے گئے خطوط میں اقبال کی پریشانی اس طرح سامنے آتی ہے کہ اقبال لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں ہے۔ گو یازاتی زندگی کی مشکلات سامنے آتی ہیں مگر اس کے باوجود اقبال اردگرد کے حالات اورواقعات سے بہ خوبی آگاہ دکھائی دیتے ہیں اور ان حالات میں اپنا فکری کردار ادا کررہے ہیں۔اقبال کی نوٹ بک جس کے تازہ ترین136نکات اقبال کے اس زمانے کی مختصر ترین سر گذشت ہے جس میں فکر اقبال کا فکرو فلسفہ عروج پر نظر آتا ہے۔ فکر اقبال کی توسیع و تفسیر میں یہ دوسرا دور نہایت اہم ہے۔

جیسے جیسے ہم فکر اقبال کا مطالعہ کرتے ہیں ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ اقبال کو صرف شاعر سمجھنا ایک بہت بڑی بھول ہے۔ اقبال کے فکرو فلسفہ کا محور انسان ہے۔ انسانی وجود اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس طرح عظمت انسانی کا تصور پروان چڑھتا ہے۔ہر انسان کوئی نصب العین رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک مثالی نظام اقدار ہی عمدہ نصب العین ہے۔ اس کی بنیاد اخوت، الفت، بھائی چارے اور سماجی انصاف پر رکھی جانی چاہیے۔انسان کو خدانے بے پناہ خوبیوں اور

صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس میں بہت کچھ کر گزرنے کی صلاحیت ہے اس لیے خیال رکھنا چاہیے کہ انسان کو زمین پر کسی سزا کے طور پر نہیں بھیجا گیا بلکہ حق کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اگر انسان کو اختیار مل جائے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ قتل و غارت کا بازار گرم کر دے پروفیسر عبدالحق نے عظمت انسانی کی وضاحت کچھ ان الفاظ میں کی ہے:

وحدت آدم کے اس تصور سے جغرافیائی حدود کے سارے نظریات باطل ہو جاتے ہیں۔ ایک خالق ایک انسان اور ایک کائنات کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ انسان کائناتی اور آفاقی سرحدوں کو چھو لیتا ہے۔ اقبال کی نظر میں اسی سے امن عالم اور بقائے باہم ممکن ہو سکتاہے۔ اس کی عدم موجودگی میں ایک علاقے کے لوگ اپنے پڑوسیوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔ آفاقی انسانی اور عالمی برادری کا تصور اس وقت انگڑائیاں لے سکتا ہے جب اقبال کی فکر پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو اجائے۔[14]

پروفیسر عبدالحق نے اپنے مضمون ”انسان فکر اقبال کے آئینہ میں“میں اقبال کے اشعار اور فکر سے عظمت انسانی کے فلسفیانہ حوالہ جات لے کر نہایت مدلل انداز میں عظمت انسانی کی وضاحت پیش کی ہے۔فکر اقبال ایک نصب العین اور وفاداری کا نام ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے فکر اقبال کی تفسیرو توسیع کا فریضہ اس دور میں سنبھالا جب ہندوستانیوں نے اقبال کو پاکستان کا شاعر قرار دے کر پاکستان کے حوالے کر دیا۔ آپ نے اپنے ”پی ایچ ڈی“کے مقالے”اقبالیات کا تنقیدی جائزہ“کا ایک باب کتابی صورت میں شائع کیا جس میں ”فکری سرگذشت“ کو موضوع بنا کر اقبال کے مآخذوں پر تحقیقی انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ آپ نے ناقدین اقبال کے تین گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلا گروہ یہ کہتا ہے کہ اقبال نے مشرق سے فیضان حاصل کیا ہے جبکہ دوسرا گروہ اقبال کی فکر کو مغرب کی طرف دھکیلتا ہے اور تیسرا گروہ مغرب اور مشرق کی قیود سے اقبال کو نکالتا دکھائی دیتا ہے اس گروہ کا موقف ہے کہ اقبال کا فکرو نظر خود ان کا اپنا ہی تخلیق کردہ ہے۔ اقبال کے فکرو نظر نے مشرق و مغرب دونوں ہی سرچشموں سے سیرابی پائی اور قوم کو کامیابی کا راستہ دکھایا۔ اقبال نے نوجوان طبقے کو مخاطب کیا کیونکہ انقلاب کے لیے نوجوانوں کا مثبت قدم ہونا لازمی ہو ا کرتاہے۔ اقبال کے دل میں یہ کسک رہی کہ جو کام اسے کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کرسکے اور عمر کے آخری حصہ میں تو یہ احساس بہت شدت حاصل کر گیا تھا۔بعض اوقات اقبال کو سمجھنےمیں دشواری ضرور ہوتی ہے مگر جب ہم ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے فکر اقبال کا جائزہ لیں تو آسانی رہتی ہے۔ بہت سے ناقدین فکر اقبال سے غلط فہمیوں کا شکار بھی ہوئے۔ پروفیسر عبدالحق نے اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری اور علی سردار جعفری کے موقف کی تردید کی اور فکر اقبال کو متوازن اور شفاف قرار دیا ہے۔ پروفیسر موصوف کہتے ہیں: "اقبال کی انفرادیت بہت کچھ اس کے ذہنی و فکری توازن اور ہم آہنگی میں موجود ہے۔ اور اس توازن کو ہر جگہ پیش کیا گیا ہے۔ خواہ وہ عقل و عشق کی معرکہ آرائیاں ہوں یا قومیت و بین الاقوامیت کی کش مکش، مشرق و مغرب کے پیمانوں کا ٹکراؤ ہو یا جدید و قدیم اقدار زندگی کی آویزشن۔یہ توازن ہر جگہ موجود ہے۔"[15]پروفیسر موصوف نے فکر اقبال کے ”ماخذو محرکات“ کو بھی موضوع بنایا۔ اقبال کے مآخذ تین پہلوؤں سے اہمیت رکھتے ہیں پہلا گھر کا ماحول ہے جو دینی اور اخلاقی دولت سے مالا مال تھا دوسرا پہلو ان کے رہبرو رہنما استاد مولانا میر حسن کا ہے۔ اور پھر تیسرا مآخذ پروفیسر آرنلڈ ہے پروفیسر عبدالحق نے اقبال کی شاعری پر بھی سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے پہلے دور کی شاعری کا عنوان ”اصلاح ملت“ قرار دیا۔ اقبال میں ابتدا سے ہی اصلاح ملت کا جذبہ موجود تھا اور ان کی نگاہ میں حضرت رسالت مآبؐ کی پیروی میں ہی ملت کی اصلاح کا پہلو پوشیدہ تھا۔آپ کہتے ہیں:"اقبال اصلاح ملت کے لیے سیر تِ نبوی ؐ کی اتباع کو منزل اولین قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ سیرت رسول ؐ سیرت کائنات عالم ہے۔ ان کے نزدیک نحوست کا علاج صرف دامان ِنبوی ؐ میں ہی موجود ہے۔ وہ سیرت رسول ؐ کو تمام غم و اندوہ کا مداوا سمجھتے ہیں۔" [16]

پروفیسر عبدالحق کے نزدیک دانش کا مستحق وہ ہے جسے اقبال اور اقبالیات سے شغف ہے۔ کم از کم سوسال کی ادبی تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اقبال کے بغیر دعوتِ دانش وری ایک فعل عبث ہے اور اقبال کے مطالعے سے ہی ہمیں اور ہماری ثقافت کو سرخ روی اور سربلندی حاصل ہو سکتی ہے۔فکر اقبال کے دوسرے دور میں استفہام و استفسار کے جذبے کا رجحان ہے۔ اقبال انفس و آفاق کے راز جاننے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنا حال اور مقام بھی متعین کرنا چاہتے ہیں۔اس دور میں اقبال کچھ فطرت پرست بھی نظر آتے ہیں۔ اسی دور میں کچھ نظموں کے تراجم بھی کیے ہیں۔ ان تراجم میں اخلاقی پہلو خاص طور پر مد نطر رکھا ہے۔ پھر وہ دور شروع ہوتا ہے جب مغرب میں دین سے بیزاری کی تحریکیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ دین و سیاست کو علیحدہ علیحدہ کرنے کا رویہ پروان چڑھتا ہے۔ اقبال کے ذہن میں فکرو فن کا سمندر غوطے کھاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقبال کائنات کی ہر شے سے مخاطب ہوتے تھے۔ ہر ایک سے سوال کرتے تھے۔ ذات اور کائنات کے تعین میں انہیں فطرت کی بے شمار اشیاء سے محبت تھی۔ انسان اور کائنات کے باہمی رشتوں پر روشنی ڈالیں تو اقبال کے تصورات ہمیں استفہام کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ فکر اقبال کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر عبدالحق لکھتے ہیں:

اقبال کے یہاں اسماء و اعلام کثرت سے ملتے ہیں۔ مختلف حیثیتوں سے ان کا تذکرہ ہو اہے اور یہ تذکرے کسی ایک خاص دور سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر دور میں ان کی مثالیں ملتی ہیں۔ ابتدائی ادوار میں بھی ان کا بڑا والہانہ تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں شعرا، علما، حکما، اولیا، صوفیا، مفکرین و غیرہ کے علاوہ بانیانِ مذاہب، سلاطین مملکت، مصلح اور بہت سے عالم قدس کے برگزیدہ حضرات کا تذکرہ ملتا ہے کہیں پران دور ساز یا تاریخ ساز شخصیتوں کے حوالے ہیں کہیں شعرا کی نظمیں ہیں۔ کہیں جلال و جبروت کی طرف اشارہ ہے کہیں رحم و عفو کی حکمت بیان کی گئی ہے۔ آیات قرآنی، احادیث نبویؐ کا بھی عقید ت مندانہ اظہار ملتا ہے۔شہروں اور تاریخی و تہذیبی اہمیت کے حامل مقامات کا بھی جا بجا ذکر ہوا ہے اور ان کے زریں عہد کی یادتازہ کی گئی ہے۔ یہ تمام عناصر فکر اقبال کے مطالعے کے سلسلے میں ایک خاص دعوت فکر و نظر دیتے ہیں۔[17]

اقبال کے فکرو فلسفہ میں ”احساس نفس“ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے مضمون ”عرفان نفس اور اس کے متعلقات“ میں شعور ذات اور ذات کے تعین کو فلسفہ خودی قرار دیا ہے۔ آپ نے شعور ذات اور شعور کا ئنات کو قرآن پاک میں پائے جانے والے لفظ انفس و آفاق سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی تعبیر و تفسیر یوں کی گئی ہے کہ انسان تمام کائنات سے برتر ہے اور یہ کائنات اس کے تصرف میں ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ جہد مسلسل کی راہ پر چلے۔ اس سے عرفان نفس کو تازگی ملتی ہے اور عشق کا جذبہ مضبوط تر ہوتا ہے۔مثالی انسان کے لیے یہی خوبیاں درکا ر ہیں اور مثالی انسان کا تصور اقبال کا عظیم ترین کارنامہ ہے۔پروفیسر عبدالحق نے اس مضمون میں عقل کو عشق کی ضد قرار دے کر اقبال کے فلسفہ عقل و دل کی جھلک بھی پیش کی ہے کہتے ہیں:

خودی،کائنات،محنت پیہم اور انسان کے درمیان ”عشق“ایک قدر مشترک ہے۔ اقبال نے اس لفظ کو ایک نئی معنویت دی ہے اور اس میں تنوع اور گہرائی پیداکی۔ پرانے مفاہیم کی جگہ نئے معانی پیدا کیے۔ عشق ان کے فکرو نظر میں ایک بلند مقام رکھتا ہے اس کا ضد یا مقابل عقل ہے۔ عقل و عشق کے معرکوں سے اردو و فارسی شعرا بھی مانوس رہے ہیں۔ اقبال کے یہاں عقل و دل کی معرکہ آرائیاں کثرت سے ملتی ہیں۔[18]

پروفیسر عبدالحق نے تحقیق میں انفرادی انداز اختیار کیا ہے۔ یہ منفرد انداز تحقیق آپ کو ہندوستانی اقبال شناسوں میں بلند رتبے تک پہنچا گیا ہے۔ آپ نے اپنے مضمون ”قومی تصورات“ میں تحقیق کا نرالا انداز اپنایا ہے۔ آپ نے بہت سے مفکرین کے نظریات پیش کیے ہیں اور پھر ان کی کڑی کو اقبال سے ملا دیا ہے اس موقع پر اقبال کے وطنی نظریات پر نگاہ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔اتحاد و اتفاق کی تبلیغ کے لیے سر سید احمد خاں، حالی، شبلی، اکبر الہ آبادی،اسمٰعیل میرٹھی، اور محمد حسین آزاد کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔اقبال نے بھی اس حوالہ سے مثبت کردار ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فردگزاشت نہ چھوڑا۔پروفیسر عبدالحق نے اقبال کے جذبہ قومیت کی وضاحت اور دلیل میں کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ان حالات میں اقبال کی حب الوطنی وقت کا عین تقاضا بھی تھا جسے اقبال نے نبھایا اور خوب نبھایا۔ ہندوستان مختلف تہذیبوں کا مسکن تھا۔ شاید اقبال بھی ایسا شوالہ تعمیرو تخلیق کرنا چاہتے ہوں یا ایسا خیال اس وقت ان کے ذہن میں ہو کہ ایسا ہندوستان تعمیر ہو جائے جس میں ایک قوم، ایک وطن، ایک معبد اور ایک انداز فکر ہو۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ فلسفہ ہے۔مذہب سے وطنیت کے محدود تصورات ٹکراتے ہیں۔ وطنیت کے لیے انسانیت اور قومی یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں مذہب کو دخل نہیں۔ مذہبی مفادات مختلف ہوتے ہں اور وطنی مفادات مختلف۔اقبال کے یہاں اتحاد انسانیت کا بلندترین مقصد دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ کے یہاں قومی یک جہتی اور اخوت کا نصب العین بھی اہم ترین نکتہ نظر سے گزرتا ہے۔ اقبال کے اس پہلو کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ پروفیسر عبدالحق کہتے ہیں: "اقبال کو سمجھنے اورسمجھانے میں دشواریاں بھی پیش آتی ہیں اور کچھ نقادوں نے بھی غلط استخراج نتائج برآمد کرکے مزید دشواریاں پیدا کی ہیں۔ اقبال کے نظریہ قومیت کو بھی ایک حد تک مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے وطنی تصورات کو بھی سمجھنے میں زیادہ دشواریاں پیش آتی ہیں۔" [19]

اقبال شروع سے آخر تک ہندوؤں اور مسلمانوں کی یک جہتی اور ہم آہنگی پر زور دیتے رہے یہ اہم فکری اور ابتدائی تصورات ہیں۔ یہ وہ مآخذ و محرکات ہیں جو آگے چل کر اقبال کے فکرو فن کو مضبوط کرنے میں معاونت کرتی ہیں اور اقبال کا نظریہ مزید واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہ فلسفہ صرف مغرب سے مآخوذ نہیں بلکہ اقبال کا اپنا مطالعہ اور اپنی وسعت نگاہ ہے تب جا کر قومی یک جہتی کے قالب میں ڈھال کر حب والوطنی کا اظہار شاعری میں کیاہے اگر ہندو اور مسلمان مل کر نہیں رہتے تو اقبال اس حالت میں اپنے لیے نیا شوالہ بنا کر رہنے کے لیے خواہش کا اظہار کرتے تھے۔پروفیسر عبدالحق کی اقبال شناسی پر نگاہ ڈالیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اقبال جو کہنا چاہتے تھے اسے سامنے رکھ کر پروفیسر عبدالحق نے تجزیہ، تحسین، اور تحقیق کی ہے۔ آپ کی تحقیق صرف اقبال کی شاعری تک ہی محدود نہیں بلکہ نثر میں بھی آپ نے نتائج اخذ کیے ہیں یہی وجہ ے کہ آپ کا تحقیقی انداز تصدیق کی سند رکھتا ہے۔

آپ نے اقبال کی غزل پر خصوصی توجہ دی اور مطالعہ کے بعد تحقیقی نتائج اخذ کیے۔ غالب نے شاعری میں فلسفہ کو فروغ دیا،حالی نے غزل کے میدان کو کشادہ کیا۔ اقبال دبستانِ لکھنو اور دبستانِ دہلی دنوں سے منحرف ہوئے اور لاہور سے ایک نئی آواز اٹھائی۔ اقبال نے ابتدا میں داغؔ کی شاگردی اخیتار کی مگر جلد ہی اس سے بھی کنارہ کش ہوگئے۔ اس کے بعد جو کلام سامنے آیا اسے پڑھ کر سب ہی دنگ رہ گئے۔انگریز کے خلاف ہندوستان میں تحریکیں تو پہلے ہی چل رہی تھیں مگر غزل میں برہنہ گفتاری کی مثال اقبال نے قائم کی۔ اس کے علاوہ تلمیحات اور حوالہ جات سے بھی اقبال کی غزلیات لبریز نظر آتی ہیں۔ بال جبریل کی غزیات تخلیقی تاریخ میں بے مثال عجوبہ ہے۔ اقبال کی غزلیات صرف عنوان کی منتظر ہیں اگر انہیں عنوان دے دیا جائے تو وہ نظم میں شمار ہوں گی اس طرح طویل نظموں کے ہر بند کو علیحدہ علیحدہ کیا جاے اور عنوان کے بغیر پڑھا جائے تو وہ غزل کا لطف دے گی۔ اقبال کے یہاں تکرار لفظی سے مستی طاری ہو جاتی ہے۔ اقبال نے غزل کے میدان میں اجتہاد سے کام لیا: غزل کو فکرو فلسفہ کی حدود سے پروان چڑھا کر پیغام کی وسعتوں تک پہنچایا۔ اقبال نے اپنی خواہش کے عین مطابق مطلع، مقطع، قافیہ اور ردیف کی پابندی سے گریز کیا اور بے باکی سے انہیں اپنے انداز سے استعمال کیا۔ اقبال کی تصنیف ”زبور عجم“ کو ”غزل نامہ“ قرار دے کر پروفیسر عبدالحق نے اقبال کی سخن وری کو سر بلند کر دیا آ پ نے اقبال کی فنی خوبیوں کے رتبے کا ذکر اس طرح کیا ہے:

اقبال دانائی اور راز جوئی کے اعتبار سے ایک مفکر اور تخلیقی سطح پر ایک سحر ساز فن کار تھے۔ شاعری میں ان کے اجتہادی اکتسایات بہت نمایاں ہیں۔ اصناف ہوں یا اسالیب، الفاظ ہوں یا مفاہیم وہ نژاد نووکے خوگر ہیں۔ یہ اقبال کی تخلیقی عبقریت ہے جس صنف شعر پر توجہ دی اسے آسمان کی بلندی بخش دی۔ کلام اقبال نے ثابت کر دیا کہ بڑے تخلیق کار کے لیے موضوع و اسلوب کے مباحث بے معنی ہیں۔ یہ ان کا عجز بیان نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت کا ادراک ہے کہ جب سینے میں آتش فکر فروزاں ہو تو نالہ پابند نے نہیں ہوتا اور نہ گفتار کے اسلوب کا ممنون اظہار ہوتا ہے۔ وہ زبان و بیان کی راہیں خود متعین کرتا ہے۔ روایات سے بے نیاز ہو کر اپنی دنیا آباد کرتا ہے۔[20]

پروفیسر عبدالحق نے فکر اقبال میں پائے جانے والے معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اقبال نے لوگوں کی غربت کو بھی اپنے فکرو فن کی بھٹی سے کندن بنا کر لوگوں کی آہ و بکا کا مقدمہ لڑا ہے۔ اقبال نے ساہوکار، سرمایہ دار اور زمیندار کو ایک ہی فہرست میں رکھا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ سب کسی نہ کسی طرح غریب کا خون نچوڑتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک زمین اس کی ہے جو اس کے لیے محنت کرتا ہے اور اقبال بزور شمشیر بھی اپنا حق طلب کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں اقبال نے اپنی زندگی کے تصنیفی سفر کا آغاز اقتصادیات کے حوالہ سے لکھی گئی نثری کتاب سے کیا تھا جواردوزبان میں تھی۔ اس کتاب میں معاش کے مختلف موضوعات پر بحث کی گئی تھی۔اقبال ہندوستانی قوم کی حالت پر کڑھتے تھے وہ اس قوم کو بدقسمت تصور کرتے تھے کیونکہ اس قوم نے حکومت گنوادی تھی۔ صنعت ہاتھ سے کھو بیٹھے تھے۔ تجارت ان کے ہاتھ میں نہ رہی تھی۔ یہ قوم وقت کے تقاضوں سے غافل تھی۔ افلاس کی تیز تلوار نے انہیں تباہ کر دیا تھا اور یہ قوم تھی کہ توکل کا بے معنی عصا لیے کھڑی تھی۔ پروفیسر عبدالحق نے اس حوالہ سے لکھا ہے کہ: "اقبال نے 1921ء میں ہندوستانیوں کی غفلت شعاری کے خلاف باشندوں کو خبردار کیا تھا کہ درآمد برآمد کے نظام کو ملک کے مفادات سے وابستہ کیا جائے خوش حالی کا مدار بھی اسی توازن پر قائم ہے۔ استعمال عام کی ہر شے ملک کے اندر تیار کی جائے اور غیر کی محتاجگی سے محفوظ رہ کرہی اس بحران کا سد باب ممکن ہے۔"[21]

اس لیے اقبال نے شیشہ گران فرنگ کا احسان اٹھانے سے بچنے کی نصیحت فرمائی اور سفال ہند سے مینا وجام پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔اقبال کے شعری حوالوں کے دوش بدوش اقبال کے خطوط، اقبال کے خطبات، اقبال کے مضامین اور اقبال کے مقالہ جات میں کئی رنگ کے موضوعات جلوہ گرنظر آتے ہیں۔ان کا احاطہ کرنا آسان نہیں مگر مطالعہ سے مرکزی خیال کی بازیافت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اقبال کے تصورات جاننے کے لیے اقبال پر بھی نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ اقبال کے خیالات نظم و نثردونوں میں منتشر دکھائی دیں گے مگرفکرو خیال میں یہ افکار منظم اور مربوط ہیں۔ ان مقدمات کی مدد سے اقبال کے تعلیمی نظریات کی تفہیم و ترسیل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔تعلیم کسی بھی نوعیت کی ہوا س میں تربیت کا کردار بہت اہم ہے۔ صرف کتب کا مطالعہ ہی کافی نہیں ہے۔ اقبال نے نصیحت کی ہے کہ کرم کتابی نہ بن۔ صرف بندہ تخمین و ظن کا فی نہیں ہے۔ صرف حساب کتاب کرکے کتابوں میں غرق ہو کر نتائج اخذ کر لینا کافی نہیں۔ عشق سراپا حضور اور علم سراپا حجاب ہے۔ اقبال کے تعلیمی تصورات اور تربیت منشورپر تین اداروں کا اثر نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلا ادارہ درس نظامی کا ہے دوسرا سر سید کی تحریک اور تیسرا ادارہ مشرق و مغرب کی درس گاہوں کا ہے۔ تعلیم و تربیت سے انسان کی پرواز بلند ہوتی ہے۔ سجدوں میں قوت پیدا ہوتی ہے، غلامی کی روح آزادی میں بدل جاتی ہے۔ کووں میں شاہین کی صفات پیدا ہوتی ہیں اگر تعلیم و تربیت کے نتائج بہتر نہ ہوں انسان کی فطرت ہی غلامانہ ہو جاتی ہے۔ پروفیسر عبدالحق کا کہنا ہے:

کرگس اور شاہین کی پرواز میں فرق ہے۔ ملاکی اذاں اور مجاہد کی اذاں میں بھی یہی صورت ہے۔ قدم بوسی کی عادی غلاموں کی نماز میں سجدہ طویل ہوتا ہے اور آزاد بندوں کے سربہ سجود ہونے سے روح زمین کانپ اٹھتی ہے۔لاکھ تعلیم و تربیت کے باوجود زاغ میں بلند پروازی پیدا نہیں ہوتی۔ خوئے غلامی جب راسخ ہو جاتی ہے تو قیام کے وقت بھی غلام سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ اقبال نے اس بارے میں فکر آفرینی کے باریک نکات پیش کیے ہیں۔ ان سب کا سیاق و سباق برصغیر کی غلامانہ زہنیت کی کارفرمائی ہے۔ ان کی تعلیم و تدریس کے لیے اقبال کا تجویز کر دہ نصاب جفاکشی اور شوق شہادت ہے۔[22]

فکر اقبال کی رو سے جب خودی آشکار ہوتی ہے تو ایک زندہ و جاوداں پیکرکی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے انسان کامل کہا جاتا ہے۔ خودی کا ادراک بھی تعلیم وتربیت سے ہی منسوب ہے اور انسان کامل کے لیے تعلیم و تربیت کا مرحلہ عبور کرنا لازم ہے۔ فکر اقبال میں تعلیم اور تربیت کے رجحان کو یکساں طور پر ساتھ لے کر چلنے کی نصیحت کی گئی ہے۔اقبال کو مطالعہ کا شوق تھا۔ کثرت مطالعہ کی جھلک اقبال کے افکار میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اقبال نے مغربی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ اقبال نے پوری دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور اسے ادبی رنگ دے کر انسانیت کی فلاح کے لیے منظر عام پر لائے۔ اقبال نے بہت سے مغربی مفکرین،مدبرین مصنفین اور مرتبین کا مطالعہ کیا تھا جس کی جھلک فکر اقبال میں دیکھی جا سکتی ہے۔

گوئٹے اور دانتے فکر اقبال میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر نکلسن نے ”اسرار خودی“پر انگریزی زبان میں عقدہ کشائی کی ہے۔ اس سے قبل انگریزی زبان میں اقبال کی نظم ”حقیقت حسن“ کا ترجمہ ہوا۔ اسے انگریزی زبان میں اقبال کی کسی نظم کا پہلا ترجمہ قرار دیا گیا ہے۔ مغربی ادب میں فطرت سے محبت انتہا درجے کی ہے۔ اقبال بھی ورڈس ورتھ کے اسالیب سے متاثر تھے جسے شاعر فطرت کہا جاتا ہے۔ اقبال کے خطبات تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ میں بھی فکرو فلسفہ کا سیلاب رواں نظر آتا ہے۔ اس کی تیاری کے لیے بھی اقبال نے سیکڑوں مغربی مفکرین کا مطالعہ کیا۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ فکر اقبال میں مغربی افکارو نظریات کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مغربی ادبیات کے مطالعہ سے اقبال کے قلب و ذہن میں بہت وسعت پیدا ہوئی۔ عربی، فارسی اور انگریزی پر اقبال کو عبور حاصل تھا اور سوامی رام تیرتھ سے کچھ سنسکرت بھی سیکھی تھی۔ اقبال نے گیارہ نظموں کا انگریزی سے اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ اقبال کے کثرت مطالعہ، مغربی مفکرین اور انگریزی ادب کے حوالہ سے پروفیسر عبدالحق کا اتنا کہہ دینا ہی دلیل بن جاتا ہے کہ:

بانگ درا کے حصہ اول کی ایک مشہور نظم ”ایک آرزو“ براہ راست ترجمہ نہ سہی لیکن یقین ہے کہ اقبال کے لاشعور میں سموئل روجرس کی نظم"A WIsh“ضرور تھی۔ نظم کے خیالات میں مماثلتوں کے علاوہ فکرو اسلوب کی دلکشی بھی ایک جیسی ہے۔ استاد داغ کی رحلت(1904ء)پران کا مرثیہ لکھا۔ اس نظم میں “Memorial Verses”کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو ورڈس ورتھ کے انتقال پر میتھیو آرنلڈ نے لکھی تھی۔[23]

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال نے مغربی ادب کا مطالعہ بہت گہرائی سے کیا ہے اور اپنے افکار کی ترویج کے لیے مغربی ادب کا استعمال بھی کیا ہے۔ کلام اقبال اس حوالہ سے ہماری بھرپور معاونت کرتا ہے۔ اگر ہم مزید مطالعہ کریں تو فکر اقبال میں قومی وحدت کے اشارے بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اقبال قومی اور انسانی وحدت کے جذبے سے سرشار تھے۔ اقبال نے بنی نوع انسان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے جو ترانے تخلیق کیے ہیں اس کی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔اقبال تاحیات قومی وحدت کے لیے بھی کوشاں رہے۔ آپ کسی بھی دور میں ہندوستان کے معاملات سے غافل نہ رہے۔ اپنی شاعری میں 1901ء ہمالہ کو فصیل کشور ہندوستان کہہ کر اس کی عظمت کے ترانے گائے۔ نظم ”شعاع امید“ میں قومی وحدت، اتحاد اور اتفاق کا جو سبق ملتا ہے ایسی کوئی دوسری نظم نظر نہیں آتی۔ فکر اقبال میں پیغمبرِآخرالزماں ؐ کے ساتھ گوتم بدھ، حضرت عیسیٰ ؑ اور جہاں دوست جیسے برگزیدہ لوگوں کا اجتماع آپ کی قومی وحدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقبال نے بلا تخصیص خدا کے بندوں سے پیار کرنے والوں کے ساتھ عقیدت مندی کا اظہار کیا ہے۔ اقبال ہندوستانیوں کے رویے سے افسردہ بھی تھے اور ان کے نقصان دہ رویے سے شدید غم زدہ بھی۔ اختلافات کی وجہ سے ہندوستانیوں کی زندگی بے رونق تھی۔ وہاں کے دریاؤں اور پہاڑوں سے اقبال سوال کرتے تھے کہ یہ کب تک اس طرح زندگی گزاریں گے۔ قومی یک جہتی کا تقاضا تھا کہ سب اکٹھے ہوجائیں اور گراں خوابی جیسی عادت ترک کر دیں۔ اقبال کی شخصی زندگی بھی قومی یک جہتی کی عمدہ مثال ہے۔ اقبال کے دوستوں میں اور مداحوں میں جو لوگ نظر آتے ہیں وہ ملک کے وسیع حصوں اور مختلف فرقہ اور مذہب کے لوگ ہیں۔ ہندوؤں اور سکھوں میں مقتدر حضرات سے اقبال کے بہترین دوستانہ تعلقات تھے۔ فکر اقبال کو اگر قومی وحدت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ ہندوستانی قوم کے لیے مشورے دیے جارہے ہیں۔

نتائج

فلاح و مشورے، تحریکوں اور تدبیروں کی باتیں ہیں۔انگریز سرکار کے خلاف ہمت پیدا کرنے کے لیے قوم کو بیدار کیا جارہا ہے۔پروفیسر عبدالحق نے اقبال کی شاعری سے عمدہ انتخاب پیش کرتے ہوئے اقبال کے قومی وحدت کے جذبے کو اجاگر کیا ہے۔ اقبال کے اس رویے نے تحریک آزادی ہندکے جذبے میں جان پیدا کی اور ہندوستانی قوم کو بیدار کیا۔ اقبال کا کلام نوائے پریشاں کا ترجمان نہ تھا بلکہ اقبال خود جہاں داری کے بھی محرم راز تھے۔ اقبال نے بین الاقوامی صورت حال کا جائزہ لیا۔ سیاسی سازشیں دیکھیں اور پھر شاعری کو وسیلہ اظہاربنا کر یہ سب چیزیں ہندوستانی قوم کے سامنے پیش کر دیں۔ اقبال نے ہندوستان کے معاشی استحصال کو تحریک ِ آزادی کے سیاق و سباق میں دیکھا جس وجہ سے انگریز عیاری دکھا کر تجارت پر قابض ہو گیا تھا۔ پروفیسر عبدالحق نے نہایت عرق ریزی سے مطالعہ کے بعد فکرِ اقبال کے مختلف گوشوں کو ہمارے سامنے نہایت ایمانداری سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس مضمون میں شامل نکات کے بغور مطالعہ سے اقبال کے علم و فن ،مطالعہ، حب الوطنی ،انسان دوستی کے ساتھ ساتھ مغرب کے چہرے کو بے نقاب کرنے کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ تحقیق کے طلبا اس مضمون کے مطالعہ سے ہندوستان میں اقبال شناسی کے ساتھ ساتھ تحقیق اور تنقید کی نئی راہوں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. پروفیسرعبدالحق،اقبال اپنے معاصرین کی نگاہ میں،تنقید ِ اقبال اور دوسرے مضامین،(دہلی:جمال پرنٹنگ پریس 1976ء)، 74۔
  2. پروفیسرعبدالحق، اقبال اور اقبالیات، اقبال اور مقام شبیری(سرینگر:میزان پبلشرز بٹہ مالو،باردوم2009ء )،15۔
  3. عبدالحق،اقبال اور اقبالیات، اقبال کے عمومی اثرات،17۔
  4. عبدالحق،اقبال اور اقبالیات،31۔
  5. عبدالحق، اقبال اور اقبالیات،اقبال کا شعری آہنگ،41۔
  6. شمس الرحمن فاروقی، خورشید کا سامان سفر (کراچی:آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، پہلی اشاعت2007ء )،101۔
  7. عبدالحق، اقبال اور اقبالیات، اقبال اور تصوف ،107۔
  8. ید مظفر حسین برنی ،مرتب۔ کلیات مکاتیب اقبال جلد اولی(دہلی:اردو اکادمی،اشاعت پنجم 1999 ء)،51۔
  9. تحسین فراقی،"جہات اقبال"،مشمولہ اقبال نامہ: چند گزارشات، چند تصحیحات،مرتب۔ شیخ عطاء اللہ (لاہور: بزم اقبال،نومبر1993ء)،95۔
  10. عبدالحق، اقبال کی تحریروں میں تحریف و تعبیر، 125۔
  11. عبدالحق، ابلیس کی شورائی مجلسیں،180۔
  12. پروفیسرعبدالحق، تنقید اقبال اور دوسرے مضامین، مطالعہ اقبال کے چند اساسی پہلو(دہلی: جمال پرنتنگ پریس،مئی 1976ء)،20۔
  13. عبدالحق، تنقید اقبال اور دوسرے مضامین، اقبال کی فکری سرگذشت کادوسرا دور،27۔
  14. عبدالحق، تنقید اقبال اور دوسرے مضامین، انسان فکر اقبال کے آئینہ میں،90۔
  15. پروفیسرعبدالحق، اقبال کے ابتدائی افکار، فکری سرگذشت(دہلی: جمال پرنٹنگ پریس،طبع اول مارچ1969ء )،67۔
  16. عبدالحق، اقبال کے ابتدائی افکار، مآخذو محرکات، 87۔
  17. عبدالحق، اقبال کے ابتدائی افکار، دور استفہام،108۔
  18. عبدالحق، اقبال کے ابتدائی افکار، عرفان نفس اور اس کے متعلقات، 158۔
  19. عبدالحق، اقبال کے ابتدائی افکار، قوی تصورات، 200۔
  20. پروفیسرعبدالحق، اقبال کا حرف شیریں، اقبال صورت گرغزل(نئی دہلی: اصیلا پریس ،اگست2014ء)،2۔
  21. عبدالحق، اقبال کا حرف شیریں، اقبال کے معاشی مقدمات، 26۔
  22. عبدالحق، اقبال کا حرف شیریں، اقبال اور تعلیم و تربیت، 54۔
  23. عبدالحق، اقبال کا حرف شیریں، اقبال مغربی ادب کے حوالے سے،63۔