Playstore.png

سیرت نگاری کی مشرقی و مغربی روایت: منتخب مصنفین کا تقابلی جائزہ

From Social Sciences & Humanities
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مذاکرات
عنوان سیرت نگاری کی مشرقی و مغربی روایت: منتخب مصنفین کا تقابلی جائزہ
انگریزی عنوان
Sirah Writing East and West: A Comparison of Selected Writers
مصنف فیاض، فوزیہ
جلد 1
شمارہ 1
سال 2021
صفحات 20-33
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Sirah, Orientalism, Comparative Study, Prophet Muhammad
شکاگو 16 فیاض، فوزیہ۔ "سیرت نگاری کی مشرقی و مغربی روایت: منتخب مصنفین کا تقابلی جائزہ۔" مذاکرات 1, شمارہ۔ 1 (2021)۔

Abstract

In the past, mode of Sirah writing was historical and descriptive but during the 19th century, this trend has been changed to the empirical research methodology. Due to religious devotion, unauthentic narrations were not judged and had been quoted constantly in Sirah literature on which orientalists laid the foundation of their objections. In response, various books are produced introducing argumentative, logical and scholarly way of writing to defend “Sirah of Prophet (PBUH)”. Question is what are the motives and causes which have changed classical trend of Sirah writing and what are its consequences? In this paper, a comparative analysis will be taken of books of Eastern Muslim scholars; Rehmatullah Keranwi, Syed Ahmad Khan, Karam Shah Alazhari, Shibli Noumani, Sana ullah Amertasri as well as Western Muslim scholars Mohammad Hussain Haykel, Hameed ullah, and Mohammad Asad. This paper will elaborate the difference between both of their research methodology and its effect in the field of Sirah writing and will be helpful for researchers.

تعارف

سیرت نگاری میں قدیم و جدید ہر دو اسلوب پر بے شمار تصانیف منصہ شہود پر آئیں جن میں مشمولات سیرت پر وقائع سیرت پر تفصیلی معلومات ملتی ہیں ۔ دونوں اسالیب پر لکھیں گئیں کتب کا علمی محاکمہ نیز انیسویں صدی میں دفاع سیرت کو حوالے نئی طرح کا وجود ، اسباب ومحرکات اور فن سیرت پر اسکے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا ۔ دور حاضر میں دفاع سیرت کے تناظر میں علمی و تحقیقی کاوشوں کی اہمیت و ضرورت پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

سابقہ معلومات کا جائزہ

انیسویں صدی میں رد مسیحیت و دفاع سیرت ﷺ پر رحمت اللہ کیرانوی کی ’’ اظہار الحق‘‘، سرسیداحمدخانکی’’الخطباتالاحمدیہ‘‘، پیر کرم شاہ الازہری کی ’’ ضیا النبی‘‘، علامہ شبلی نعمانی کی ’’ سیرت النبیﷺ‘‘، ڈاکٹر حمید اللہ کی ’’ پیغمبر اسلام ‘‘، مولانا ثنا اللہ امرتسری کی ’’ مقدس رسول‘‘ جبکہ نو مسلم مغربی سیرت نگاروں میں کونسٹن ورجل جورجیو کی ’’ پیغمبر اسلام‘‘، محمد حسین ہیکل کی ’’ حیاۃ محمد‘‘، ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب کا ترجمہ’’ پیغمبر اسلام‘‘، محمد اسد کی کتاب کا ترجمہ’’اسلام دوراہے پر‘‘ میں دفاع سیرت پر مصنفین کی گراں قدر کاوشیں ان کی بصیرت شناسی کی دلیل ہیں بلکہ دور آئندہ میں سیرت نگاری میں اخذو احتیاط کی راہ کو مزید مؤکد کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چونکہ قرآن پاک میں سیرت رسول ﷺ کوجملہ انسانیت کے لئے باعث تقلید کہا گیا ہے:(لَقَدْكَانَلَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) لہٰذا امت پر آپ کی حیاۃ طیبہ کے ہر گوشہ کی حفاظت کرنا بلکہ اخبار مصدقہ کو من و عن پیش کرنا لازم ہے۔

سولہویں اور سترویں صدی عیسوی میں نور نامہ، مولود نامہ، شمائل نامہ، معراج نامہ، وفات نامہ اور درد نامہ کی صورت میں منظوم سیرت نگاری مسلمانوں کے ہاں عام تھی۔[1]اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اوائل میں جب نثر میں باقاعدہ سیرت نگاری کا آغاز ہوا تو ریاض السیر، تجلیات الانوار، ممتاز التفاسیر، فوائد البدریہ،چار باغ احمدی منظر عام پر آئیں جس میں قدیم عربی مصادر سے استفا دہ کیا گیا۔[2]

اگرچہ روایات سیرت کی جانچ پھٹک کا باقاعدہ اہتمام کرنے کا رحجان نہیں ہوا تھا۔تاہم قدیم عربی مصادر سے ستفادہ اس بات کی دلیل تھا کہ مسلمان سیرت نگاروں کے پیش نظر محمد ﷺ سے متعلق اپنے دلی جذبات کا اظہار، محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ پیغام سیرت کو اصلاح امت کی غرض سے عام کرنا بھی تھا۔

اسوہ رسول ﷺ کا ہر واقعہ قابل تقلید و باعث تفاخر ہے لیکن مسلمانوں کے قدیم سرمایہ سیرت میں کمزور و ضعیف روایات کے شامل ہونے کی وجہ سے مغربی مصنفین نے مطالعہ سیرت نگاری میں نقد کے رحجان کو فروغ دیا اور باقاعدہ سیرت پر اس تنقیدی مگر شائستہ انداز سے کتب تحریر کیں۔[3]تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو غیر مسلم جن میں بالخصوص جنھیں عیسائی و یہودی اہل علم شامل ہیں جنھیں دور حاضر میں "مستشرقین" کہا جاتا ہے۔ اہل کتاب میں احبار و راہبین کے بعد مغربی قلم کاروں نے تحقیق کے نام پر واقعات سیرت کو منطقی پیمانوں پر ناپتے ہوئے اعتراضات کی راہ ہموار کی۔ حالانکہ اہل اسلام نے دیگر غیر سماوی ادیان کے پیروؤں کے مقابلے میں اہل کتاب کی مصاحبت کو ترجیح دی ہے جس کی مثال قرآن میں مجوس فارس کے مقابل نصاریٰ کی فتح کو پسند کیا۔[4]

مقدس رسولﷺ:ایک جائزہ

امرتسر کے مشہور عالم دین، مفکر اور سیرت نگار مولانا ثنا اللہ امرتسری نے 1925 میں "مقدس رسول ﷺ" تصنیف کی کو ہندو مذہب کے مشہور فرقے " آریہ سماج" کی جانب سے کسی گمنام کی تصنیف"رنگیلا رسولکے جواب میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں مولانا نے پیغمبر اسلام ﷺ پر لگائے گئے اتہامات در ازدواج رسول، کردار مصطفیٰ وغیرہ کے مسکت اور مدلل جوابات دئے۔[5]اس کتاب میں مصنف نے آریہ سماج کی طرف سے پیش کی گئی خرافات کا علمی تحقیقی جواب بڑی متانت اور سنجیدگی سے دیا ہے جو مصنف کی تبحر علمی کا بین ثبوت ہے اس کتاب میں مولانا صاحب نے "رنگیلا رسول" میں پیش کی گئی متعددعبارات کی تحقیق کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ موضوع اور من گھڑت ہیں ۔

اظہارالحق:ایک علمی تجزیہ

شیخ رحمت اللہ کیرانوی عثمانی ہندی کی تصنیف ہے جو ان کے مخطوطے سے مدون کی گئی۔ اس کا پہلا ایڈیشن "ادارت البحوث العلمیہ والافتا" حکومت ریاض کی معاونت 1989 میں شائع ہوئی۔ مصنف نے یہ کتاب مدافعت سیرت میں لکھی اور ان اسباب و محرکات کی نشاندہی کی گئی جن کی وجہ سے صلیبیت دین اسلام کے خلاف معرکۃ الارآ ہوئی۔ مصنف نے دفاع سیرت کے ساتھ رد مسیحیت کا بھی علمی محاکمہ کیا۔ 1854 میں فنڈر نامی عیسائی کا رحمت اللہ کیرانوی کے ساتھ علمی مناظرہ ہوا جس کی روداد کو فنڈر نے کتابی شکل میں لکھا اور قرآنی آیات کی من چاہی تفسیر کر کے اور اسی کی بنیاد پر اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ پر اعتراضات قائم کئے۔جس کے جواب میں اظہار الحق کے ذریعے دندان شکن جواب دیا، مثلاً: اظہار الحق میں عہد نامہ قدیم و جدید میں تحریفات کی نشاندہی کی گئی۔ قسطنطین اول کے حکم سے 325 میں نائیس شہر میں عیسائی علما کی کونسل منعقد ہوئی جس میں عہد نامہ جدید و قدیم کی 73 کتب میں سے صرف کتاب یہودیت کو مستند قرار دیا جبکہ بقایا مشکوک قرار پائیں ۔ 364 میں جب دوسری عیسائی کونسل منعقد ہوئی تو سابقہ کونسل میں مسترد کردہ کتب کو پھر سے قابل اعتبار سمجھا گیا۔جب کہ تیسری عیسائی کونسل 397 میں پچھلی قابل اعتبار کتب میں سے اول سات کو درست مانا گیا۔حالانکہ عیسائی پروٹسٹنٹ فرقے نے یہودیت، وزدم، طوبیا، باروخ، ایکلیزیا، مکابین اول و دوم کو مسترد قرار دیا اور کہا کہ یہ عیسائیت کی مذہبی کتب کے خود ساختہ تراجم ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔[6]

اظہارالحق میں توریت سے متعلق بھی حقائق کا انکشاف کیا گیا کہ شاہ یوسا بن آمون 638ق۔م کے عہد میں ضائع ہو چکی تھی بعد میں کاہن خلقیاہ نے اسے خود گھڑ لیا۔ کیونکہ اسے مرتب کرنے والے موسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں معتمد عیسائی عالم الیگزینڈر کیڈس بھی اس کی صحت کے قائل نہیں تھے۔[7] کلیسا کے قدیم مؤرخین خود بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ اناجیل و تورات تحریف شدہ اور اغلاط سے پر ہیں۔اظہار الحق کے مصنف نے عیسائی مغالطے اور انکا رد بیان کیا۔ لفظی و معنوی تحاریف کی نشاندہی کی۔ عقیدہ تثلیث اور الوہیت مسیح کا ابطال کیا اور عقلی ونقلی دلائل سے سیرت کی حیثیت کو مستند قرار دیا۔

خطبات احمدیہ:سر سید احمد خان

سرسید احمد خان(1817-1898) کی" خطبات الاحمدیہ علی العرب والسیرت المحمدیہ" اگرچہ باقاعدہ سیرت کی کتاب نہیں تھی کیونکہ اس میں حیات پیغمبرﷺ کے ابتدائی بارہ برسوں کا حال بیان کیا گیامگر چونکہ اس کتاب کی وجہ تالیف سیرتﷺ کا دفاع کرنا تھا ان اعتراضات کے جواب سے جو ولیم میور(1819-1905) نے اپنی کتاب“ Life of Muhammad”میں کیے تھے۔خان صاحب کی یہ کتاب ان وجوہات سے انفرادیت کی حامل ہے۔

  1. اس میں سوانح نگاری کے جدید اصول کو تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی مطالعے کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔[8]
  2. حیات نبیﷺ کے مختلف گوشوں کو منطقی پیمانوں پر ناپنے کی کوشش کی ہے جس میں اکثر معاملات میں عقل و استدلال سے اسلام کے روایتی نقطہ نظر کا انکار کیا جیسے معجزات کی تاویل، معراج کو عالم رویا قرار دینا، جہاد کو دفاع سے مشروط کرنا وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ بعض معاملات میں اتفاق کا اظہار کیا۔[9]

سرسید احمد خان کے معروضی، منطقی اور استدلالی اسلوب سے جنم لینے والے ان کے افکار پر مغربی فکر کا غلبہ دکھائی دیتا تھا جس کی طرف بعد میں آنے والے مسلمان اہل علم نے تنقیدی نگاہ سے دیکھا مگر بہر حال دفاع سیرت میں ان کی کاوشیں آنے والے دور میں سنگ میل ثابت ہوئیں۔

سیرۃ النبیﷺ:علمی جائزہ

1339 میں شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی کی مشترکہ معرکۃ الارآ تصنیف ’’ سیرۃ النبیﷺ‘‘ کے نام سے منصہ شہود پر آئی۔ اس کتاب کی تکمیل میں ایک معزز خاتون نواب سلطان جہاں بیگم کا ذکر ملتا ہے جس نے اپنے شاہی خزانے سے اس کے اخراجات برداشت کیے۔مصنفین نے اس کی وجہ تالیف میں جن مقاصد کو پیش نظر رکھا اس میں درج ذیلس نکات ذکر کیے جاتے ہیں۔

جوہر سیرت کو رواج دینا

اس کی اولین وجہ تصنیف اسوہ رسولﷺ کی حقیقی تصویر عالم انسانیت کے سامنے پیش کرنا کیونکہ دیگر انبیائے کرام کے حالات مکمل و جامع نہیں ہیں ۔چونکہ پیغمبرانہ کمالات میں جملہ انبیائے کرام مساوی ہیں البتہ ظہور کمالات میں سب یکساں نہیں ہیں اور ان کے مراتب کمالیہ میں جزئی تفاوت بھی ہے اسلئے دونوں صداقتوں کا ظہور اسوہ رسولﷺ کا بیان عام ہے۔[10]

سیرت کی عملی حیثیت سے آگاہی

پیغمبر اسلامﷺ کی بائیوگرافی تاقیامت انسانیت کے لیے مشعل راہ ہےاور سیرت رسول فرد کامل اور استقصائے واقعات کا مرکب ہے۔ لہٰذا یہ صرف مذہبی نہیں بلکہ علمی ، اخلاقی، تمدنی اور ادبی ضرورت بھی ہے کہ سیرت کے عملی پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے۔[11]

استشراقی تناقضات کا محاکمہ

"سیرت النبیﷺ" کی تالیف کا تیسرا بڑا مقصد مستشرقین کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا تحقیقی جواب دینا اوراسلام میں سیرت نگاری میں موجود اخذو احتیاط پر مبنی اصولوں کو بیان کرنا، نیز مغربی سیرت نگاروں کے تحریری اسلوب کا تنقیدی جائزہ لینا تھا۔

مسلمانوں کا کمزورروایات سیرت اخذ پر نقد

علامہ شبلی سیرت نگاری میں کمزور و ضعیف روایات کے اسباب و عوامل اور اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:"دوسری صدی ہجری میں بغداد، کوفہ، شام، الجزیرہ، واسط، رے ، خراسان، مصر اور اندلس سمیت پوری دنیا میں سیرت نگاری میں قلمکار پیدا ہوگئے جنہوں نے امہات سیرت سیرت ابن اسحاق، کتاب المغازی للواقدی، طبقات ابن سعد اور تاریخ طبری سے ہی استفادہ کیا چونکہ یہ سیرت نگاری پر قدیم ترین کتب ہیں جو متاخرین کے لئے باعث تقلید بنے۔"[12]

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان امھات کتب سیرت میں کمزور و ضعیف روایات کی شمولیت نے نا صرف مستشرقین کے لئے سیرتﷺ پر اعتراضات کی راہ کو ہموار کیا بلکہ مسلمان سیرت نگاروں کی بےجا تقلید نے فن سیرت نگاری کی استنادی حیثیت میں عقیدت و فضیلت کے جذبات کے زیر اثر لی جانے والی ضعیف روایات کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا کردیے جو آنے والے وقت میں مستشرقین کے لئے سیرت نگاری پر اعتراضات کی راہ ہموار کرگئے۔اس سے متعلق حافظ زین الدین عراقی نے لکھا:ولیعلم الطالب ان السیرا ……………تجمع ما صح وما قد انکرا۔ یعنی طالب فن کو جاننا چاہئے کہ سیرت میں ہر دو قسم صحیح اور قابل انکار روایات ہیں ۔پھر یہ روایات مستند اور مسلم الثبوت کتب سیرت میں شامل ہوگئیں اور ہر دور میں ہونہی نقل ہوتی گئیں۔ امام احمد بن حنبل ان روایات سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں: ثلاثۃ کتب لیس لھا اصول المغازی و الملاحم و التفسیریعنی تین کتب طرح کے اسلوب پر کتب سیرت کی کوئی اصل نہیں کتب مغازی، ملاحم اور تفسیر۔[13]

سیرت ابن اسحاق کے مصنف کچھ ارباب علم کے نزدیک ثقہ ہیں اور کچھ کی رائے اس کے برعکس ہے۔جبکہ واقدی "کذاب" مشہور ہے۔ابن سعد پر تنقید نہیں ملتی البتہ اس کی " طبقات" میں اپنے استاد واقدی کی روایات قابل تنقیح ہیں۔ان کتب کے اکثر رواۃ ضعیف اور غیر مستند ہیں جیسے سیرت ابن اسحاق کی کثیر روایات زیاد بکائی سے مروی ہیں جنھیں ابن مدینی (امام بخاری کے استاد) نے ضعیف کہا ہے یونہی طبری کے بڑے شیوخ راوی سلمہ بن ابرش، ابن سلمہ ضعیف الروایۃ ہیں۔بالخصوص مناقب اور فضائل میں ایسی روایات کی کثرت سے بھرمار ہے۔بیہقی، ابن السنی، ابونعیم کی کتب میں ایسی روایات کی وجہ سے ان پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔[14]مثلاً ولادت نبیﷺ کے وقت ایوان کسرہ کے چودہ کنکروں کا گر جانا، آتش فارس کا بجھ جانا، بحیرہ طبریہ کا خشک ہوجانا، سفید بادل کا نومود محمد کو آسمانوں کی سیر کروانا، زمرد کی منقار اور یاقوت کے پروں والے پرندوں کا فضا میں بکھر جانا،آدم علیہ السلام کی توبہ سے متعلق یہ حدیث "اگر میں محمد کو پیدا نہ کرتا تو کسی کو پیدا نہ کرتا"، تلک الغرانیق کا قصہ وغیرہ جن کی صحت مشکوک ہے۔علامہ شبلی کے نزدیک ان کمزور و ضعیف روایات کے سرمایہ سیرت میں شامل ہونے کے درج ذیل اسباب تھے:

  1. تصانیف سیرت میں کتب احادیث سے بے اعتنائی برتنا
  2. تذکرہ رواۃ میں تدلیس
  3. واقعات سیرت میں علت و معلول کا فقدان
  4. نوعیت واقعہ کی مناسبت سے شہادت کا مفقود ہونا
  5. خارجی اسباب کا اثر
  6. کم سن راویوں سے روایت کرنا
  7. قیاس و درایت کا عمل دخل[15]

ضیاالنبی: تحقیقی جائزہ

7 جلدوں پر مشتمل پیر کرم شاہ الازہری سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان، معروف محقق و عالم کا تحقیقی شاہکار مدافعت سیرت میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔عیسائیت کے عقائد و مذہبی لٹریچر میں تحریفات کے باعث عالم انسانیت روحانیت اور ادب و حکمت سے خالی ہوچکا تھا۔انسانیت اپنا شرف کھو کر ذلت و قعر کی پستیوں میں گر چکی تھی ایسی مکدر فضا میں رسول اللہﷺ کی بعثت ظلمتوں کی جہاں کدے میں مثل آفتاب تھی جس کی ضیا پاشیوں سے عالم انسانیت کو روشناس کرنا ضروری تھا۔دفاع سیرت کے حوالےکرم شاہ الازہری نے جن بنیادوں پر ضیا النبی کو تالیف کیا اس کے نمایاں خدوخال یہ ہیں:

  1. اس کتاب کو انہوں نے تاریخی اسلوب پر تحریر کیا جس میں اقوام گذشتہ کے حالات کو بھی قلمبند کیا۔
  2. سیرت کی تاریخی حیثیت اور سابقہ ادیان میں موجود بشارات کے حوالے سے مصدقہ حوالہ جات کا اہتمام کیا۔
  3. سابقہ مذہبی لٹریچر سے بعثت محمدﷺ کا تذکرہ پیش کر کے سیرت میں روایت کے اسلوب کو تصدیق کے ساتھ پیش کرنے کا رحجان پیدا کیا۔
  4. مستشرقین سے متعلق تفصیلی معلومات ، ان کی علمی خدمات کے مثبت پہلو اور اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ پر اٹھائے گئے اعتراضات کا مدلل و مسکت جواب دیا۔

پیغمبر اسلام:کانسٹن ورجل جورجیو

غیر جانبداری اور منصفانہ تحقیق جب مشاہدے کے ساتھ اکٹھی ہو جائے تو " پیغمبر اسلامﷺ" کی تصنیف ہوتی ہے۔ مشہور رومانوی سیرت نگار، محقق،مؤرخ اور فلاسفر کا عقیدت میں ڈوبا ہوا یہ شاہکار جس نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی اور مختلف زبانوں میں اس کے تراجم کئے گئے۔ زیر نظر مقالے میں ان کی کتاب "La Vie de Mohamet" کا اردو ترجمہ شامل تحقیق کیا گیا ہے۔اس کتاب میں جورجیو نے شماریاتی تحقیق کیساتھ ساتھ مدافعت سیرت کا حق بھی بخوبی ادا کیا ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: فرانسیسی دانشوروں کے خیال میں نبی کا کام صرف مذہبی قوانین کی تبلیغ کرنا ہوتا ہے حالانکہ محمدﷺ ایک عظیم سماجی و معاشی تحریک کے پیشوا بھی ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سماجی تحریک میں وحدت انسانی اورقومی یک جہتی جیسی صفات انقلابی حیثیت رکھتی ہیں جن کی دور حاضر میں پائیدار امن کی اشد ضرورت ہے۔[16]

تعداد ازواج سے متعلق جورجیو مدلل اور محققانہ انداز اختیار رکھتے ہیں کہتے ہیں؛ پیغمبر اسلام ﷺ کی تعدد ازدواج پر نقطہ اعتراض اٹھانے والے یہ علم نہیں رکھتے کہ پچاس برس تک آپ کی زوجیت میں صرف حضرت خدیجہ رہیں جو آپ ﷺ سے عمر میں پچیس برس بڑی اور ایک بیوہ عورت تھیں"۔[17]اور ویسے بھی یک زوجگی کا حکم کسی نبی نے نہیں دیا بلکہ یہ خانہ ساز بدعت کلیسا کی رائج کردہ ہے، شریعت موسوی اور قبل از اسلام تعدد ازواج کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔

میثاق مدینہ کا مغربی دستور میگنا کارٹا سے موازنہ

جورجیو میثاق مدینہ سے متعلق لکھتے ہیں؛ سورہ المائدہ کی آیت "الیوم اکملت لکم دینکم" کی روشنی میں کسی بھی دین کے بانیوں میں سے کسی نے بھی محمد ﷺ کی طرح دوسرے ادیان کے ساتھ مداوا نہیں کیا اور میثاق مدینہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے کیونکہ میثاق مدینہ کی 52 شقوں میں سے 25 کا تعلق مسلمانوں کے ساتھ جبکہ 27 کا تعلق غیر مسلموں کے ساتھ ہے۔[18]

پیغمبر اسلام‘‘ کا اسلوب تحقیق

  1. جورجیو نے بائیس سال عرب کی سرزمین کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی تحقیق کی بنیاد ملاحظے پر رکھی۔
  2. ہجرت مدینہ، معجزات، وحی ، جہاد، معراج اور تعدد ازواج جیسے حساس موضوعات پر مدافعانہ اور محققانہ انداز میں قلم اٹھایا ہے۔
  3. قدیم مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے اصناف سیرت کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
  4. مغربی تصانیف کو بھی بطور دلیل استعمال کیا اور منطقی طرز استدلال پیش کیا۔
  5. مستشرقین کی طرف سے قائم کردہ اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔مثلاً وہ کہتے ہیں ایک یورپی عربی زبان کی فصاحت کو سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ اس زبان کے اثرات کو محسوس ہی نہیں کرسکتا۔
  6. جورجیو نے سیرت کی مدافعت میں معروضی و غیر معروضی دونوں طرق سے بحث کی ہے۔

جورجیو کی مدافعت سیرت میں کی گئی کوششیں اس حوالے سے منفرد حیثیت رکھتی ہیں کہ جب مغربی مستشرقین کی جانب سے کیے گئے ان اعتراضات نے سرسید احمد خان جیسی علمی شخصیت کی سوچ میں ارتعاش پیدا کیا اور انہوں نے ولیم میور کی کتاب ’’ لائف آف محمد‘‘ میں کئے گئے اعتراضات کے زیر اثر اسلامی بنیادوں جیسے معجزات نبویﷺ کا انکار کردیا۔[19]

سرسید احمد خان وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دینے میں مخاصمانہ اور الزامی طریق کے بجائے دوستانہ اور مطمئن کردینے کا انداز اختیار کرتے ہوئے غیر جانبدار اور علم دوست ہونے کا ثبوت دیا[20] لیکن مستشرقین کے منطقی بنیادوں پر کئے گئے اعتراضات کا سرسید پر منفی اثر ہوا۔وہاں جورجیو جیسے مستشرق نے اس ارتعاش کو بھرپور عقلی و نقلی دلائل سے مضبوط کیا، لکھتے ہیں:"’علمائے اسلام کہتے ہیں کہ محمدﷺ سات آسمانوں پر گئے اور سدرۃ المنتہیٰ پہنچے خدا سے ہمکلام ہو کر واپس آئے تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی۔ یہ بات آئن سٹائن کی تھیوری مفروضہ نسبیہ کے موافق ہے۔دو اجسام کے لئے جن میں ایک ساکن اور دوسرا متحرک ہوٹائم کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی لہذا علمی اعتبار سے بھی یہ قابل قبول ہے۔"[21]

واقعۂ معراج پر جورجیو کا دفاعی انداز بیان کرنے سے پہلے وہ سبب بیان کرنا لازمی ہے جس نے جورجیو کے قلم کو حرکت دی۔ مشہور اطالوی افسانہ نگار دانتے(1265-1321) نے صلیبی جنگوں میں شکست کے زیر اثر پیغمبر اسلام ﷺ کی نسبت عامیانہ اور خرافات پر مشتمل افسانے کو تصنیف کیا۔ یہ خالصتاً ایک کیتھولک تھا جس نے احیائے دین مسیح کی آرزو میں عقیدہ تثلیث کا پرچار کرنے کی کوشش میں دین اسلام کو زک پہنچانے کی کوشش کی۔دانتے کی پیدائش سے قبل ادب اسلامی کے مغربی تراجم کا رواج پڑ چکا تھا۔ پروفیسر کورولی کے مطابق دانتے نے انہی تراجم سے استفادہ کرتے ہوئے "ڈیوائن کامیڈی"کے نام سے شعری مجموعہ لکھا جس میں مسیحی عقائد کی آمیزش کرکے ( نعوذباللہ) پیغمبر اسلام کو عیسائیت میں پھوٹ ڈالنے والا قرار دیا اور اسی پادش میں انہیں جہنم کے نچلے درجے میں دکھایا۔[22]جورجیو نے دانتے کی ان خرافاتی مجموعے کا منہ توڑ جواب پیش کیا۔مغرب کی طرف سے پیغمبر اسلام کے متعلق زہر افشانی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔

پیغمبر اسلامﷺ: ڈاکٹر حمید اللہ

جدید اسلوب سیرت پر لکھی گئے یہ کتاب دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اس کتاب میں سیرت نگاری و سوانح نگاری کے فرق کو واضح کرتے ہوئے دفاع سیرت کا حق ادا کیا ہے۔ اس کتاب کے مختلف زبانوں میں کئے گئے تراجم اس کی مقبولیت پر دال ہیں۔

پیغمبر اسلامﷺ:کی نمایاں خصوصیات

ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سیرت کی عالمگیر حیثیت کو واضح کرتے ہوئے لکھا کہ پیغمبر اسلامﷺ ایک ایسے مصلح اور لیڈر ہیں جنہوں نے ایسے مذہب کی بنیاد رکھی جو ہمیشہ جاندار رہے گا کیونکہ وہﷺ ماضی کی طرح مستقبل کے بھی راہنما ہیں۔[23]

سیرت نگاری اور سوانح نگاری کے فرق کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سوانح نگار موضوع کو غیرجانبدارای اور واقعیت پسند گہرائی سے دیکھتا ہے کیونکہ اس میں منفی اور مثبت دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں جب کہ سیرت ان معائب و نقائص سے مبرا ہے۔ واقعات سیرت کو منطقیت و فلسفیت کے پیمانوں میں نہیں ناپا جا سکتا البتہ منطقی دلائل بطور تائید پیش کیے جاسکتے ہیں۔[24]

ڈاکٹر صاحب سیرت سے متعلق جغرافیائی عوامل کو بھی زیر بحث لاتے ہیں جیسا کہ وہ مکہ اور مدینہ کی شہری ریاستوں کو ایک مثلث اور نقشہ عالم پر مکہ کو قلب اور ناف الارض قرار دیتے ہیں۔[25]

جدید شماریاتی تحقیق کو فروغ دیتے ہوئے تاریخی واقعات کو تقویمی کیلنڈر کے مطابق بیان کیا مثلاً جنگ احد کی تاریخ مارچ 625 بیان کیا۔ڈاکٹر صاحب کی اس کوشش سے تاریخی واقعات کی استنادی حیثیت مزید مسلم ہوگئی۔ مغربی مستشرق دانتے نے جس انداز سے واقعہ معراج کو حقارت آمیز انداز سے پیش کیا اس پر ڈاکٹر صاحب نے بھی لکھا کہ دانتے نے معجزات سے متعلق مغالطہ آفرینی سے کام لیا جبکہ معراج سے متعلق ادب اسلامی میں معتبر اور وافر ذخیرہ معلومات موجود ہے۔ البتہ دانتے نے علمی خیانت کرتے ہوئے اسے غلط رنگ میں پیش کیا۔[26]

حیاۃ محمد:علمی تجزیہ

محمد حسنین ہیکل مشہور مصنف، مصری ادیب، فلسفی اور دفاع سیرت پر کام کرنے والےجدید طرز نگارش کے سیرت نگار ہیں۔ اسلامی ممالک میں ان کی دیگر ادبی خدمات کے ساتھ دفاع سیرت کے حوالے سے کاوشوں کو بہت سراہا گیا ہے زیر بحث کتاب’’ حیاۃ محمد‘‘ کا اردو ترجمہ محمد حسین عبدہ نے کیا اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم دستیاب ہیں۔ محمد حسنین نے اس کتاب کے مقدمے میں اپنی اس تصنیف کا مقصد یوں بیان کیا کہ میری اس تحریر کا مقصد کلیسائی پادریوں کا اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی سیرت پر کئی گئے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ غیر مصدقہ، بے بنیاد اور غیر علمی طریق پر کیے گئے مستشرقین کے اعتراضات کے جواب دینے کے ساتھ میری کوشش ہے کہ قارئین کو مستشرقین کے مقاصد سے متعلق شعور حاصل ہو۔ کیونکہ دفاع سیرت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ واشنگٹن ارونگ امریکی مستشرق کی طرف سے عقیدہ تقدیر پر منطقی انداز میں بحث کرکے اسے مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دیا ہیکل نے ان اعتراضات کا قرآن کی روشنی میں مدلل جواب دیا۔[27]

حیاۃ محمد کا اسلوب تحقیق: عوامل و اثرات

محمد حسنین ہیکل کی یہ کتاب اگرچہ دفاع سیرت پر لکھی گئی ہے اور کئی لحاظ سے دیگر کتب سے منفرد ہے اول یہ کہ ہیکل نے قرآنی آیات کو اساس بنایا اور پیغمبر اسلامﷺ کے ساتھ دیگر شخصیات کو شامل نہیں کیا اور مسلمان سیرت نگاروں کی وہ روایات جو محض عقیدتاً کتب سیرت میں شامل ہوگئیں اور استنادی اعتبار سے کمزور رہیں کی نشاندہی کی۔

یورپ کی وہ تصنیفات جن میں پیغمبر اسلامﷺ سے متعلق بےسروپا گفتگو کی گئی تھی ان کا مدلل و مسکت جواب دیا گیا مثلاً نویں صدی کے نصف میں ’’ فرہنگ لاورس فرانسہ‘‘ مسیحی لٹریچر ، 183 میں آئینو اور فرانسک مثل کی تحاریر، 17 صدی میں بیل کا ترجمہ قرآن کی آڑ میں توہین آمیز اعتراضات، تعصب پر مبنی مغربی شعراء مصنفین کی زہرافشانیاں مثلاً چیرونوچن، ولوہیم، اولان، نیکو، وقیقس، مراتشی، ہرباسکل، ایمون لیون، ہوٹنگر، یلیانڈو، پریدو، برونر ایل یونہی 1822 میں فوسربر، رودلف ولوہیم کی ناپاک جسارتیں یہ وہ سب عوامل تھے جو حیاہ محمد کی تصنیف بنے ۔ ہیکل نے پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق اہل کتاب کی عداوت کی مذکورہ اسباب بھی بیان کیے۔

  1. حقائق و معارف سے جہالت
  2. اسلای تعلیمات سے ناواقفی
  3. عیسائیت کی مذہبی تعلیمات سے بےخبری
  4. جغرافیائی حالات ( بلا کی سردی، اقتصادی حالت) کا اثر
  5. روحانیت کا فقدان[28]

علامہ محمد اسد

مشہور نومسلم مستشرق،فلاسفراور مغربی فکر جن کو اسلام کے لئے مغرب کا تحفہ سمجھا جاتا ہے۔ان کا شمار ان مستشرقین میں ہوتا ہے جو حقیقت کی تلاش میں سرگرداں رہے اور اسلام کے سایہ عاطفت میں پناہ لی اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی مدافعت میں منطقی دلائل سے اپنا حق ادا کیا۔ ان کی تصانیف کی تعداد ہے جس میں انہوں نے اسلام کا بھرپور دفاع کیا لیکن اس حوالے سے "Islam at Crossroads"ان کی عالمانہ و محققانہ سوچ کی عکاس ہے۔یہ کتاب اگرچہ محض سیرت کے موضوع پر نہیں مگر محمد اسد نے محمد ﷺ کی سیرت کی جامعیت اور عملی حیثیت سے آپﷺ کے کردار پر منطقی اور علمی انداز سے روشنی ڈالتے ہوئے مدافعانہ انداز اختیار کیا ہے۔ وہ اپنے قبول اسلام کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مسلم اقوام سے مل کر میں نے دین اسلام میں ایک کامل سماجی نظم اور ایسا نظریہ زندگی کا مشاہدہ کیا جو یورپ سے یکسر مختلف تھا محمدﷺ کا لایا ہوا یہ دین انسانیت کے لئے ایک مکمل تعمیراتی شاہکار دکھائی دیا اور پھر میں محمد ﷺ کی زندگی کا مشاہداتی مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا اور حجاز اور نجد میں چھ سال تک ہر اس وادی اور علاقے کا خود مشاہدہ کیا جہاں محمد ﷺ نے تبلیغ دین کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں نے اسلام مخالف تحاریر کا مطالعہ بھی کیا اور پھر یہ در مجھ پر وا ہوا کہ پیغمبر اسلامﷺ کی تعلیمات اسلام کے روحانی اور سماجی مظہر کی عظیم ترین قوت محرکہ ہے جس نے اپنے کردار سے صحابہ کرام کے زندگیوں میں انقلاب پیدا کر کے ان کے قلوب کو حرارت ایمان سے گرما دیا۔[29]

محمد اسد کے اسلام کی طرف مائل ہونے میں محمد ﷺ کی سیرت کے مشاہداتی مطالعہ نے اہم کردار ادا کیا اور انکے ذہنی ارتفاع میں اسی مشاہدے نے روحانی ارتقاً کو بھی تشکیل دی۔

اسلامی تہذیب میں سیرت کی تابناکیاں

محمد اسد اسلامی تہذیب کے جوہر حقیقی میں محمدﷺ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں؛ اسلام محض ایک روحانی طرزعمل ہی نہیں بلکہ یہ ثقافتی اور سماجی نظام کا ایک خود انحصارمحور ہے جس کی قیادت ایک حقیقی کردار’’ محمدﷺ‘‘ کرتے ہیں۔[30]

سلطنت اسلامی کی بنیادیں اور سیرت محمدﷺ

محمد اسد لکھتے ہیں کہ نصف صدی پہلے( یہ تحریر 1937 کی ہے) اسلامی سلطنت تین براعظموں تک پھیلی تھی اور ان کے دشمن بھی انتہائی طاقتور تھے لیکن اسلامی سماجی تنظیم ہمیشہ ناقابل شکست رہی کیونکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت نے اس عظیم سماجی ڈھانچے کے گرد فولاد نما حلقہ بنا دیا تھا جبکہ رومن سلطنت ایسا کوئی قائد نہیں رکھتی تھی لہٰذا جلد ہی بکھر گئی۔ ویسے بھی ان کے روایتی دیوتا یونانی اساطیر کی مبہم سی نقالی تھے جو انسانوں کے لئے کوئی اخلاقی و سماجی نظام وضع نہیں کر سکتے تھے۔[31]

مغربی سیرت نگاروں کا انداز تحریر

اگرچہ مستشرقین کی سیرت نگاری میں خامہ فرسائی کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں فن سیرت نگاری کے اسلوب میں نکھار پیدا ہوا وہیں مستشرقین کی تحاریر نے مغربی ذہن پر پیغمبر اسلامﷺ سے متعلق منفی اثرات بھی مرتب کئے۔ وہ لکھتے ہیں؛ مستشرقین نے دینی تعصب کی وجہ سے پیغمبر اسلامﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو مسخ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا اور یہ مسخ شدگی انگلینڈ، جرمنی، فرانس، روس، اٹلی ، ہالینڈ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ مستشرقین جہاں بھی رہے معاندانہ تنقید کا کوئی خیالی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ان کی اسلام سے متعلق کینہ پرور مسرت پیش پیش رہی کیونکہ مغربی ذہن بغیر کسی وجہ سے اسلام مخالف رویہ رکھتا ہے۔[32]

سیرت نگاری میں مغرب کا جدید لائحہ عمل

ماضی میں اہل کتاب نے محمدﷺ کی ذات پر قلم اٹھاتے ہوئے جتنا غیر ذمہ داری اور غیر علمی طریق اختیار کیا تھا جس کا ان کے اپنے فرمانرواوں کو ادراک بھی ہوگیا مثلا ً ہادریان، کارلائل وغیرہ۔ اور ویسے بھی صلیبی جنگوں میں اہل کتابیوں کی مسلسل شکست سے انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ میدان جنگ میں مسلمانوں کو شکست دینا ناممکن ہے لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی کے لئے نیا لائحہ عمل اختیار کیا۔جس سے متعلق محمد اسد لکھتے ہیں؛ انسانی تاریخ میں اقوام کے مابین جنگیں لڑیں بھی گئیں اور بعد میں وہ ایک دوسرے کے حلیف بھی بن گئے لیکن اہل اسلام اور اہل کتاب کے مابین صلیبی جنگیں جنگی ہتھیاروں سے شروع ہو کر قلم پر آکر رک گئیں۔میدان جنگ سے یہ محاذآرائی میدان ادب تک آگئی جس میں مستشرقین( مغربی علما جنہوں نے اسلامی علوم کی تحصیل پر توجہ دی) نے تحقیق کے نام پر مغربی ذہن میں اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف نفرت کا بیج بویا۔یہودیوں نے سپین کے عیسائیوں کو اپنا ملک واپس حاصل کرنے پر اکسایا گیا مزید برآں1453 میں قسطنطینیہ کی ترکوں کے ہاتھوں شکست نے اس نفرت کو اور زیادہ ہوا دی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل مغرب بازنطینی سلطنت کو مسلمانوں کے خلاف اپنے لئے ایک دفاعی قلعہ سمجھتے تھے۔[33]

مسلمان سیرت نگاروں میں جنہوں نے سیرت پر مدافعانہ انداز میں کتب تحریر کیں ان کا جائزہ پیش کرنے کے بعد مستشرقین کی طرف سے کئے گئے اعتراجات کی نوعیت تاریخی تناظر میں بیان کی جاتی ہے۔

سیرت سے متعلق قدیم استشراقی اسلوب: ایک جائزہ

حضرت خالد بن ولید (635) کے ہاتھوں جنگ یرموک میں شہنشاہ ہرقل کو شکست، شام پر قبضہ اور شام ، فرانس ، سپین پر ہزار سالہ عیسائی حکومت کا مسلمانوں کے ہاتھوں خاتمہ ،صلیبی جنگوں میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مسلسل شکست اور احیائے دین عیسائیت و یہودیت کی آرزو میں مستشرقین نے مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں برسر پیکار ہونے کے بجائے قلمی جنگ کو ترجیح دی۔ اس کی تائید علامہ مودودی کی رائے سے ہوتی ہے لکھتے ہیں:

"مستشرقین کے سیرت نگاری اور دیگر اسلامی ادب میں تصانیفی رحجان کا مقصد حروب صلبیہ کی پیداکردہ ذہنیت کے تحت عیسائیوں کے جہان افکار کو اسلام کے غلبے سے دور کرنا ہے۔اور مسلمانوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق شبہات میں مبتلا کرنا ہے۔"[34]

قدیم استشراقی اسلوب کا منہج تحریر

قدیم استشراقی اسلوب کی ابتدا آٹھویں صدی سے ہو چکی تھی جس میں شب و ستم، دشنام طرازی اور غیر علمی و غیر تحقیقی انداز، تعصب سے کام لیا گیا۔جس میں جان محمد دمشقی کا نام سرفہرست ہے۔میتھیو پیرس، ڈوزی،پیٹر ہائیلن(572)، راجر ونڈوور، ہنری اسمتھ وغیرہ نے پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے کتابیں لکھیں[35]لاطینی آباد کار اور مسلم علاقوں سے آئے عیسائی اور یہودی جو خام معلومات لائے ان کا سہارا لیکر پیغمبر اسلام ﷺ کی نفرت انگیز، کریہ المنظر اور بھیانک کر جن کا اسلوب درج ذیل نکات کا احاطہ کیے ہوئے ہے:

  1. ذرائع ماخذ کا نظر انداز کرنا
  2. غیر مصدقہ خبروں سے پیغمبر اسلام سے متعلق تشکیک پیدا کرنا
  3. تحریر میں ترش گفتگواور غیر علمی انداز استعمال کرنا
  4. اوہام و خرافات کا پھیلانا
  5. تحریروں میں تعصب کا اثر انداز ہونا
  6. معروضیت اور منطقیت پر واقعات سیرت کو پرکھ کررد کرنا
  7. اسلامی کتب سیرت میں موجود کمزور روایات سے ذریعے اعتراضات قائم کرنا

مستشرقین کی قدیم تحریری روش کو جب 19ویں صدی کے تحقیق اور معروضیت کے دور میں پاپائی تعصب کہہ کر دنیا نے مسترد کردیا بلکہ خود مستشرقین میں انصاف پسندی کا رحجان رکھنے والوں نے اپنے ہی فرمانرواؤں کی سختی سے تردید کی جیسے کارلائل، واٹ،اور ہادریان وغیرہ۔

ہادریان نے 1705 میں دین محمدی کے نام سے ایک کتاب لکھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر مغرب سے لگائے گئے تمام اعتراضات کی تردید کرتے ہوئے کہا:" اسلام اور پیغمبر اسلام کی کردار کشی کی جتنی کوششیں مغرب نے کیں کسی اور کے بارے میں نہیں ہوئیں۔ یہاں تک کہ ہر گمراہ کن نظرئے کو 'محمدی نظریہ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اسلام اور پیغمبر اسلام سے متعلق مطالعہ کرنا چاہے تو مغرب کی خرافات سے لبریز کتب کا مطالعہ بے سود ہوگا میری تحقیق یہ ہے اصل عربی مصادر سے مدد لی جائے۔[36]یونہی منٹگمری واٹ نے لکھا:

“All of the world’s great men, none has been so much maligned as Mohammed.”[37]

پیغمبر اسلام سے متعلق مغربی اسلوب تحریر پر علمی انداز سے تنقید کرنے والا کارلائل پہلا مستشرق تھا جس نے ببانگ دہل اعتراف کیا کہ مغرب کی طرف سے پیغمبر اسلامﷺ پر لگائی گئی خرافات ہر گز قابل قبول نہیں بلکہ یہ خود مغرب کے لئے باعث ننگ و عار ہوگا۔

“Our (Western) current hypothesis about Mohamet, a falsehood incarnate .These lies which well-meaning zeal has heaped round this man, are disgraceful to ourselves only.”[38]

تو اب اس قدیم اسلوب تحریر میں تبدیلی کی گئی اور کلیسائی زہر سے بھی تیز تر زہر " تحقیقی کی مٹھاس" میں شامل کر کے پیش کیا گیا جس میں درج ذیل چیزوں اس زہر کو مزید موسوم بنانے میں معاون ثابت ہوئیں:

  1. معروضی و منطقی طریقہ تحقیقی کو مقبولیت حاصل ہونا
  2. مسلمان سیرت نگاروں کی سیرت سے متعلق کمزور روایات
  3. مشرق پر تحقیقی جمود طاری ہونا

مستشرقین نے جب اپنے ہی لوگوں کی طرف سے تردید و انکار دیکھا تو انہوں نے سیرت سے متعلق اپنے اسلوب کو علمی و تحقیقی رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات کیے۔

  1. سوسائٹک ایشیاٹک آف پیرس 1822ءکا قیام
  2. رائل ایشاٹک سوسائٹی آف گریٹ بریٹن اینڈ آئرلینڈ 1833ءکا قیام
  3. امریکن اوریینٹل سوسائٹی 1842ءکا قیام
  4. تحقیقی جرائد کا اجرا(ہندوستان سے “The Muslim World”، 1895ءمیں پیرس سے“ Revealed Islam”اور 1912 ءمیں روس سے اجرا ہوا۔

یونہی مستشرقین کی پہلی عالمی کانفرنس 1873ء میں ہوئی جس میں ان کے تحقیقی ادارون کی سرگرمیاں ، نتائج، اطلاعات کے تبادلے، مقالات، خطبات ، اور قراردادوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف مزید فعال بنانے کی کوششوں کو ازسرنو متحرک کیا گیا۔[39]

نتائج

انیسویں صدی میں سیرت نگاری میں سیرت نگاری میںجدید اسلوب کی سب سے بڑی وجہ مستشرقین کا سیرت رسولﷺ پر اٹھائے گئے اعتراضات تھے جو عام طور پر مستشرقین کی طرف سے کسی تصنیف کے جواب میں منظر عام پر آئیں مثلاً رحمت اللہ کیرانوی کی ’’ اظہار الحق‘‘ پادری فنڈر کی تحریر کے جواب میں، سرسید احمد خان کی "خطبات احمدیہ" ولیم میور کی تحریر کے جواب میں ، شبلی نعمانی کی " سیرۃ النبی" اور پیر کرم شاہ الازہری کی " ضیا النبی"، محمد حسنین ہیکل کی"حیاۃ ،محمد" ، ڈاکٹر حمید اللہ کی" پیغمبر اسلام"مستشرقین کی مختلف تصانیف جن میں سیرت ﷺ پر اعتراضات کئے گئے ، کے جواب میں سامنے آئیں یونہی مولانا ثنا اللہ امرتسری کی "مقدس رسولﷺ" جو آری سماج کی "رنگیلا رسول" کے جواب میں لکھی گئی تھی اور ویسے بھی یہ سب مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ا نہوں نے دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا مگر ان مذاہب کا ذاتی طور پر مشاہدہ نہیں کیا جب کہ مغربی سیرت نگاروں کی تصانیف کسی مستشرق کی کسی خاص تحریر کے جواب میں ضبط قلم نہ ہوئیں بلکہ انہوں نے خاص طور پر انہوں نے یہود و عیسائیت کا ذاتی مشاہدہ کیا اور اسلام سے ان کا تقابل کرنے کے بعد اپنی تحقیق کی بنیاد مشاہدے پر رکھی اور ان تحقیقی کاوشوں سے جو نتیجہ سامنے آیا اسے پوری ایمان داری سے عوام کے سامنے رکھا اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات کا دفاع بھی خالصتاً ان کی علمی پیاس اور تلاش حق کی مرہون منت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انداز تحریر میں دفاع سیرت کے لئے منطقیت اور معروضی استدلال کو سامنے رکھا گیا اور محمد اسد اور کونسٹن ورجل جورجیو کی تصانیف ان کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں لہٰذا ان کےتحقیقی نتائج نے نہ صرف مستشرقین کے اعتراضات کا رد کیا بلکہ انیسویں صدی میں سیرت نگاری میں نئی جہت متعارف ہوئی کا جس کی بدولت سیرت نگاری کے فن میں مزید نکھار پیدا ہوگیا اور ساتھ ہی ساتھ مغرب میں سیرتﷺ سے متعلق پھیلائے گئے شکوک و شبہات کو دور کرنے کا موقعہ بھی ملا۔ پیغام سیرت کی ضرورت قیامت تک رہے گی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نا صرف جدید و معروضی تحقیقی انداز کو تائیدی حیثیت سے فن سیرت نگاری میں جگہ دی جائے بلکہ سیرت نگاری میں روایات کی اسنادی حیثیت کو بھی اہمیت دی جائےتاکہ سیرت محمدﷺسے متعلق اہانت آمیز لٹریچر شا ئع کرنے والوں کو قوت اور طاقت کے ساتھ ساتھ علمی اور ادبی فورم پر بھی مسکت اور مدلل جواب دیا جائےیاس کے ساتھ ساتھ مستشرقین کی اسلام اور پیغمبر اسلام سے متعلقدیگر زبانوں میں تصانیف کا گاہے بگاہےتنقیدی و تحقیقی محاکمہ کیا جائے۔

حوالہ جات

  1. سیدہ جعفر، گیان چند جین، تاریخ ادب اردو ( نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ زبان،1998)5:162 ۔
  2. انور محمود خالد، اردو نثر میں سیرت رسول ( لاہور: اقبال اکیڈمی پاکستان1989)،84۔
  3. حافظ محمود اختر، مرتب۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ ( لاہور: دانش گاہ پنجاب،2011) 11:507۔
  4. محمد حسنین ہیکل،پیغمبر اسلام،مترجم۔ابو یحیٰ انعام خان ( لاہور: ادارہ ثقافت اسلامیہ2011) ،6 ۔
  5. مولانا ثنا اللہ امرتسری، مقدس رسول( انڈیا: مکتبہ الفہیم مئو ناتھ،امرتسر، 1925)، مقدمہ کتاب۔
  6. رحمت اللہ کیرانوی، مختصر اظہار الحق( سعودی عرب: ادارہ مرکز اسلامی و الاوقاف و الدعوۃ والارشاد،1989)،19۔
  7. ایضا۔، 25۔
  8. اشتیاق حسین قریشی، برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ،مترجم۔ ہلال احمد زبیری(کراچی: شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ،1999)،310۔
  9. عزیز احمد، برصغیر میں اسلامی جدیدیت، مترجم۔ ڈاکٹر جمیل جالبی ( لاہور: ادارہ ثقافت اسلامیہ2006)،79۔
  10. شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، سیرۃ النبی ( لاہور: برہان اکیڈمی)،1:32۔
  11. شایضا۔، سیرۃ النبی، 34۔
  12. نگار سجاد ظہیر،سیرت نگاری آغاز و ارتقا ( کراچی: قرطاس پبلشرز 2010) ،158۔
  13. ملا علی قاری، مو ضوعات کبیر ( مطبع مجتبائی) ،85۔
  14. شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، سیرۃ النبی ،64۔1:61۔
  15. ایضا۔،1:65 ۔
  16. کونسٹن ورجل جورجیو، پیغمبر اسلام،مترجم۔ مشتاق حسین میر( لاہور:ادارہ ترقی فکر،2012)، 165۔
  17. ایضا۔، 122۔
  18. ایضا۔، 211۔
  19. سر سید احمد خان،الخطبات الاحمدیہ فی العرب والسیرۃ المحمدیہ (لاہور: دوست ایسوسی ایٹس،1996)،350۔
  20. الطاف حسین حالی، حیات جاوید ( انڈیا: ترقی اردو بیورو،1996) ، 126۔
  21. کونسٹن ورجل جورجیو، پیغمبر اسلام، 145۔
  22. Danty, Divine Comedy ،Translator, Grant White (New York, 1948), 28.
  23. کونسٹن ورجل جورجیو، پیغمبر اسلام، 17۔
  24. ایضا۔، 20۔
  25. ایضا۔، 35۔
  26. ایضا۔، 7۔
  27. محمد حسنین ہیکل، حیاۃ محمد، 863۔
  28. ایضا۔، 22۔
  29. Mohammad Asad, Islam at Crossroads,10.
  30. Ibid., 11.
  31. Ibid., 34.
  32. Ibid., 50-51.
  33. Ibid., 64-70.
  34. سید ابو الاعلیٰ مودودی،سیرت سرور دو عالم (لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، 1978)، 475۔
  35. اللؤلو والمکنون سیرت انسائیکلوپیڈیا(سعودی عرب: مکتبہ دار السلام)،1:80۔
  36. محمود زقزوق، الاستشراق و الخلفیۃ الفکریہ للصراع الحضاری ( مصر:دار المنار قاہرہ1989)، 43۔
  37. Watt, Mohammed: Prophet and Statesman (London: Oxford University press,1961),231.
  38. Thomas Carlyle, On Heroes and Hero Worship and The Heroic in History ( New York: Electronic Classis Series Publishers, 1973(, 311.
  39. انسائیکلو پیڈیا سیرت النبیﷺ،مرتب۔ قاسم محمود، سیرت نگاری اور سیرت نگار(لاہور: الفیصل ناشران، س۔ن ) 2:1695۔