تحقیق و تدوین میں مخطوطہ شناسی کی اہمیت

From Social Sciences & Humanities
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مذاکرات
عنوان تحقیق و تدوین میں مخطوطہ شناسی کی اہمیت
انگریزی عنوان
Importance of Manuscript Reading in Research and Editing
مصنف خان، محمد طاہر بوستان
جلد 1
شمارہ 1
سال 2021
صفحات 1-6
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Manuscript, Research, Urdu
شکاگو 16 خان، محمد طاہر بوستان۔ "تحقیق و تدوین میں مخطوطہ شناسی کی اہمیت۔" مذاکرات 1, شمارہ۔ 1 (2021)۔

Abstract

Manuscript is a handwritten book. The writer of such book is known as "khattat". In the field of research editing and Makhtoota hold primary position. No research is possible without it. Editing is the farther goal than research. Therefore, being an expert in the manuscript is an obligatory factor for editing Manuscripts are the richest treasure of the human civilization, and their great contribution. They are the chronological records of past memories, incidents and circumstances. They need great expertise to understand these. A person who is not capable expert of manuscripts, he can’t carry out the research or editing task effectively.

تعارف

مخطوطہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی مادی سے ہاتھ پر لکھا ہوا تحریری نمونہ۔اس نمونے کی یہ تحریر نقل بھی ہو سکتی ہے اور طبع زاد بھی، طویل بھی اور مختصر بھی،مفید اور غیر مفید بھی ہو سکتی ہے۔ اصطلاحی معنی میں مخطوطہ سے مراد قلمی کتاب لی جاتی ہے۔یعنی وہ کتاب جسے قلم سے لکھی گئی ہو۔ مخطوطہ لکھنے والے کو خطاط اور تحریر کو خطاطی کہتے ہیں۔

مخطوطہ شناسی تحقیق اور تدوین کی بنیادی ضرورت ہے۔ کیوں کہ تحقیق و تدوین کے لیے مخطوطہ کا موجود ہونا لازم ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ اس کی پہچان کا علم بھی ہو نا چاہیے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد حقائق کی تلاش،سچ کی جستجو،مناسب انداز سے واقعات کو ترتیب دینا اور خالص منطقی انداز سے نتائج نکالنا ہے۔اس کے لیے چاہیے کہ متن کے آداب کا خیال رکھاجائے۔محقق کے لیے اگر چہ یہ لازم نہیں کہ وہ ترتیب متن پر بھی اسی طرح دسترس رکھتا ہوالبتہ تدوین کے فرائض سر انجام دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اداب سے بخوبی واقف ہو کیوں کہ اس کے بغیر تدوین کے تقاضے پورے نہیں ہوپائیں گے۔

مخطوطہ شناسی کے لیے تحقیق سے کماحقہ واقفیت رکھنا ضروری ہے۔ حواشی، مقدمہ، متن کا زمانہ تصنیف، مصنف اور اس کے عہد سے متعلق ضروری معلومات، داخلی شواہد کا تعین وغیرہ کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جن سے کوئی عہدہ بر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کسی شخص کو تدوین پر اس وقت تک دسترس نہیں ہو گی جب تک وہ تحقیق کا مزاج نہ رکھتا ہو۔ تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی انتہائی ضروری ہے۔ چوں کہ تدوین تحقیق سے آگے کی منزل ہے اس لیے تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی کو کافی اہم قرار دیا جاتا ہے۔تحقیق کی طرح تدوین کے لیے بھی مخصوص مسائل،آداب اور ضابطے ہیں۔ اور اس کے لیے مخطوطہ شناسی کا علم سب سے اہم ہے۔ جب کسی مخطوطے کو موضوع بنایا جاتا ہے تو اس کی اصلیت یا اسناد کے بارے میں سب سے پہلے اطمینان کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ضیاء الدین احمد بد ایونی لکھتے ہیں:

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بازارِ تجارت میں سکّہ رائج کی جگہ سکّہ جعلی کا چلن بھی ہوا کرتا ہے، اسی طرح بازارِ علم میں بھی ہوتا آیا ہے۔ قرآن مجید کا یہ ناقابل تردید معجزہ ہے کہ دوسری کتب سماوی کے بر خلاف، اس میں انسانی تصوف کو راہ نہیں مل سکی، لیکن احادیث کا ایک معتدد حصہ ضرور ایسا ہے جس کی صحت مشکوک ہے۔حاشا! میرا مقصد احادیث کی صحت یا حجیّت سے انکار نہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کی کسی قوم نے اپنے پیشوا کے اقوال کا اتنا عظیم الشان، اتنا جامع اور اتنا مستند ریکارڈ مدوّن نہیں کیا جتنا مسلمانوں نے۔پھر بھی اہل ہوس نے جب موقع پایا، اپنی ذاتی، سیاسی یا مذہبی اغراض کے تحت وضع احادیث کا شغل جاری رکھا۔"[1]

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بعض اشخاص کسی نہ کسی وجہ سے اصل متن کو چھپاکر یامسخ کرکے حالات و واقعات کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ ا س لیے ضروری ہے کہ جب تحقیق کی جائے تو اصل متن تک رسائی حاصل کی جائے۔ تحقیق اور تدوین کے اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ مخطوطہ کو پہچان لیا جائے اور اس کی پہچان مختلف طریقوں سے ہو سکتی ہے۔محقق کو چاہیے کہ وہ ایک سے زیادہ قلمی نسخے حاصل کرے۔ جب مختلف نسخے ہاتھ آجائیں تو یہاں سے اس کی مخطوطہ شناسی کا امتحان شروع ہو جا تا ہے کہ وہ اس میدان میں کتنی مہارت رکھتا ہے۔وہ کس نسخے کو اصل قرار دے اور کس کو ثانوی حیثیت دے۔اور کس کو ردّ کردے۔

کب جعلی کاروبار، ذاتی مصلحت، سیاسی غرض اور فرقہ وارانہ مفاد یا دوسری ایسی باتیں سامنے آجائیں تو تحقیق اور تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ مخطوطہ شناسی کا علم نہ رکھنے والا نہ تو تحقیق کے میدان سے عہدہ بر آ ہو سکتا ہے اور نہ تدوین کا کام صحیح طریقہ سے سر انجام دے سکتا ہے۔بل کہ یوں سمجھ لیں کہ تحقیق و تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی سب سے زیادہ لازمی عنصر ہے۔ اس کے بغیر تحقیق و تدوین کے مرحلے میں ایک قدم آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ لہٰذا لازم ہے کہ مخطوطہ جاننے کا علم پہلے مرحلے میں حاصل کیاجائے۔

پہچان

مخطوطہ پہچاننے اور اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے محقق کو داخلی شہادت سے،ا گر وہ نہ ملے تو خارجی شہادت سے کام لینا چاہیے۔ داخلی ذرائع میں مخطوطہ زیرِ بحث کا دیباچہ اور متن کی اہمیت مسلم ہے۔ اور خارجی میں معتبر شہادتیں، تاریخیں،تذکرے اور دوسری یادداشتیں آجاتی ہیں۔اس سلسلے میں ضیاء احمد بد ایونی یوں لکھتے ہیں:"نواب صدیق حسن خان کی متعدّد تصانیف میں مصنّف کا نام کہیں نہیں ملتا۔ البتہ موضوع تصنیف (یعنی اثباتِ توحید و سنّت، ردّ شرک و بد عت،ابنائے زمانہ کی شکایت، امیر اورآزادمنش بیویوں کی مذمّت)کے ایسے فرائض ہیں جن سے اندازِ قد کی پہچان مشکل نہیں۔"[2]

مصنف کی شخصیت متعین ہو نے کے بعد اس کی تصنیف کے عہد اور ماحول یا زمان و مکان کے تعیّن کا مرحلہ آتا ہے۔ زیرِ نظر مخطوطہ کب اور کن حالات میں وجود میں آیا۔اس کے جاننے سے موضوع کی بہت سی گتھیاں حل ہو جاتی ہیں۔عرب، جو تحقیق کے فن میں اتنے مشاق ہو گئے تھے جنہوں نے یورپ کی دنیا کی بھی رہنمائی کی، ابتدائی عرصہ میں علم حساب سے دل چسپی نہیں رکھتے تھے اور کسی مشہور واقعے کو بنیاد قرار دے کر اپناکام چلا لیتے تھے۔یمن کے والی حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو ایک مرتبہ لکھا کہ آپ کے یہاں سے آنے والے فرمان پر تاریخ نہیں ہو تی، جس سے اکثر بڑی الجھن پیدا ہو تی ہے۔ حضرت علی ؓ کے مشورے سے ہجرت نبوی ؐکو اساس ٹھہرایا گیا اور اسی طرح تاریخ ہجری کا آغاز ہوا۔مؤرخین کا بیان ہے کہ مامون الرشید کے زمانے میں یہود نے دربار میں ایک دستاویز پیش کی جس سے ظاہر ہو تا تھا کہ رسول ؐ نے ایک معاہدے کی رو سے یہودیوں کو تمام ٹیکس معاف کر دیے تھے۔ مامون نے کہا کہ اگر حضور ؐنے تم کو یہ رعایت دی ہے تو میں بہ سر و چشم عمل در آمد کروں گا۔ اسی وقت دربار کے ایک عالم نے اس دستاویز کو لے کر بغور دیکھا اور اس کو جعلی قرار دے دیااور وجہ یہ بتائی کہ اس کے گواہوں میں ایک نام سعد بن معاذ کا بھی ہے جو معاہدے سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ لہٰذا اس دعویٰ کو خارج کر دیا گیا۔

مصنف کی پہچان

غرض سنین کی اہمیت یا سنین کے نہ ہو نے یا مقدّم و مؤخّر ہو نے کی قباحت سے ہر کوئی واقف ہے۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کسی مخطوطے کا کسی مصنف کا تحریر کردہ ہو نا یا اس کے عہد کا یا قریب عہد کا ہو نا اس کی قدر و قیمت بڑھا دیتی ہے۔اور متن کی صحت کو بڑی حد تک قابل استناد بنا دیتا ہے۔نہ صرف یہ بل کہ متن کے سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک مخطوطے کو جانچتے وقت سال ِ تصنیف اور سالِ کتابت کی یقین انتہائی ضروری ہے۔ ایک سے زائد نسخے موجود ہو نے کی صورت میں جس نسخے کا سالِ کتابت قدیم ہو گا، وہی زیادہ قابل ِ قدر ہو گا۔مخطوطہ شناسی کے علم کے لیے بہت سارے علوم سیکھنے پڑتے ہیں کیوں کہ مختلف علوم میں مہارت نہ ہو نے کی وجہ سے صحیح فیصلے صادر نہیں کیے جاسکتے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی لکھتے ہیں:

مخطوطہ کی توسید متعدد علوم کا تقا ضا کر تی ہے اس لیے ایسے اداروں میں ہر شعبہ کے ماہرین کا تعاون حا صل ہو نا چاہیے۔ خط اور طرز تحریرکے مسائل ہر زبان دان کے پاس نہیں ہو تے۔ بوسیدگی اور کرم خوردگی ایک مستقل مسئلہ ہے اس کے لیے کیمیائی تجربے اور علم حشرات سے آگاہی ضروری ہے۔سیاہی کے حوالہ سے دورانیہ کا تعلق ایک الگ شعبہ ہے، زبان کا تغیّر اور ارتقاء لسّانی ماہرین کا شعبہ ہے۔ بعض تاریخ الگ الگ ذوق اورعلم چاہتا ہے اس لیے ماہرین کی جماعت میں شعبہ آثار، شعبہ تاریخ، شعبہ کیمیا اور قسم دراسات ادبیات کے محققین کی ایک بڑی تعداد شامل ہو نی چاہیے۔[3]

اسی طرح تحقیق و تدوین میں مخطوطہ شناسی کی اہمیت مسلم ہے اور مخطوطہ شناسی کے لیے مختلف علوم پر دسترس لازم ہے۔ ایک مخطوطہ شناس کو محقق ہو نے کے علاوہ مؤرخ، سکّہ شناس، کتبہ شناس، مہر شناس، تصویر شناس، کاغذ شناس کے علاوہ روشنائی، آرائش، نقش و نگار اور علم خط کی شناخت کا بھی ماہر ہو نا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اسالیب ادب سے واقفیت بھی ضروری ہے۔

مخطوطہ کو سمجھنے کے لیے اگر تاریخ موجود نہ ہو توداخلی اور خارجی شہادتوں سے کام لے کر سال کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ خود مخطوطے کا خط اور کاغذ کی نو عیت بھی اس خصوصیت میں راہ نمائی کر تی ہے۔اگر ہم مختلف قلموں یعنی ثلث، محقق، توقیع، ریحان، رقاع، نسخ او ر تعلیق کی تاریخ اور نمونوں سے، نیز مختلف زمانوں اور ملکوں میں کاغذکی مروّجہ قسموں سے واقف ہیں تو کسی مخطوطے کو دیکھ کر اس کی کتابت کا تخمینی زمانہ متعیّن کر سکتے ہیں۔نیز آیا کہ یہ ہندوستان میں لکھا گیا ہے یا افغانستان و ایران میں۔اگر کسی مخطوطے میں تاریخ کی صراحت نہیں ہے۔ تب یا تو مصنف کے کسی دبے ہو ئے اشارے سے زمانے کا تعین کرنا پڑتا ہے یا خارجی شواہد کی طرف رجوع کر نا پڑتا ہے۔اسی طرح بعض تحریکات، کلمات اور ایجادات کا زمانہ جا نا بوجھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر کسی کتاب میں ان کا ذکر ہو تو ہم اس کتاب کے سنّین کا کچھ نہ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔مثلاً تصوف کا لفظ عہد ِ رسالت کے بعد کی پیداوار ہے۔اس بنا پر جس حدیث میں یہ لفظ آیا ہے، اس کی صحت مشکوک ٹھہرتی ہے۔ آزادؔ نے آب ِ حیات میں چمّو ساقن کا تذکرہ کیا ہے جو کبھی کبھی حقہ بھر کر امیر خسرو ؔ کے سامنے لے کر کھڑی ہو تی اور وہ اس کی دل شکنی کا خیال کرکے دو گھونٹ لے لیا کرتی، مگر محققین نے اس بیان کو اس بنا پر ردّ کیا ہے کہ تمباکو کی دریافت سولہویں صدی عیسوی میں ہوئی ہے۔ اس روایت کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔

قرات متن

سب سے آخر میں قراتِ متن کا منزل ہے۔ کسی مخطوطے کے متن کا درست پڑھ لینا جس قدر ضروری ہے اس قدر دشوار بھی ہے۔تمام مخطوطات ایسی مغشوش اورمخدوش حالت میں ملتے ہیں اور ان میں اغلاط کا طوفان ہو تا ہے۔یہ اغلاط مصنفین کے خطائے فکر کا نتیجہ بھی ہو تی ہیں اور کاتبوں کی لغزشِ قلم کا بھی۔چوں کہ انسان خطاو نسیّاں سے مرکب ہے جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ کبھی قلّتِ تدبر سے، کبھی فکر کی خطا سے، کبھی فہم کی سہوہ سے اور کبھی وہم کے غلبہ سے خود مصنف یا مؤلف اپنی تراوشِ فکر کودل چسپ بنانے کی دھن میں تحقیق و تدقیق سے قطعِ نظر کر لیتا ہے۔کتب لغّات کے دوران ِ مطالعہ لغّت نگاروں کے یہاں بے احتیاطی کی مثالیں اکثر دیکھنے میں آئی ہیں۔ جس کی متعدد وجوہ ہیں۔ اکثر لغت نگار نقل در نقل پر اکتفا کرتے ہیں اور ذاتی غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ دوسرے، جس زبان کا لغت انہیں لکھنا ہو تا ہے، اس میں ان کو اہل ِ زبان کا مرتبہ حاصل نہیں ہو تا۔وہ عموماً تقابلی لسّانیات سے بے بہرہ ہو تے ہیں۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ سینکڑوں اغلاط ہو تے ہیں۔عربی لغت نگاری میں ایرانیوں کی اور فارسی لغت نویسی میں ہندوستانیوں کی خدمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ غیر اہل ِ زبان سے زبان کے محاورات کے بر محل استعمال میں جو لغزش ہو تی ہے اس حوالے سے ضیاء احمد بد ایونی یوں رقم طراز ہیں:

ایرانی موّلف علّامہ مجدّ الدین فیروز آبادی کا واقعہ ہے۔جب وہ تدوین ِ لغت کا ارادہ کر رہے تھے تو محض اس خیال سے کہ مستورات کی زبان بہت پاکیزہ اور خالص ہو تی ہے، انہوں نے تحصیل زبان کی خاطر ایک عرب خاندان میں شادی کا پیغام دیااور چوں کہ وہ لوگ ایک عجمی سے رشتہ کرنے کو تیار نہ تھے، اس لیے اپنے آپ کو عرب ظاہر کیا نکاح کے بعد شب میں بی بی کو چراغ گل کرنے کی ہدایت کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ ایرانی تھے، اس لیے زبان سے بے ساختہ ”اقتلی السراج“کا جملہ نکلا جو چراغ رابکش کا لفظی ترجمہ ہے۔ اس جملے کا ادا ہو نا تھا کہ اس نیک بخت نے گھر سر پر اٹھا لیاکہ دوڑو!یہ شخص عرب نہیں، اہل عجم سے ہے۔بالآخر قبیلے والوں نے ان کو مجبور کیا کہ بی بی کو طلاق دیں اور اپنی جان سلامت لے جائیں۔[4]

اس سے یہ اندازہ ہو جا تا ہے کہ زبان والوں کو اہل ِ زبان کی برابری کرنا مشکل ہے۔ہمارے بعض فرہنگ نگاروں نے لسّانیات سے واقف نہ ہو نے کی بناپر بعض ایسے شگوفے چھوڑے ہیں کہ باید و شاید۔جب اس طرح کے مشکوک اور مخدوش نسخے سے واسطہ پڑے تو محقق کی یہ کو شش ہو تی ہے کہ جتنے زیادہ نسخے دست یاب ہو سکے، فراہم کرے اور اس کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھے، جانچے اور چھان پٹک کے بغیر اسے بعینہ ِ قبول نہ کرے۔ اس عمل کے لیے مخطوطہ شناسی کا وسیع مطالعہ ضروری ہے۔تحقیق و تدوین کا بنیا دی کام یہی ہے کہ مخطوطے کو حاصل کیا جائے،ا س کا خوب مطالعہ کرکے اس کی اغلاط کی تصحیح کی جائے اور بعد میں اس کو مرتب کیا جائے کہ کسی غلطی کا حتمال نہ رہے۔کیوں کہ یہ در اصل کسی علم تک رسائی کا اصل ذریعہ ہو تا ہے۔ بقول ڈاکٹر انجم رحمانی:

مخطوطات انسان کی تہذیبی کارناموں کا عظیم قیمتی ورثہ ہے۔یہ انسان کی سیاسی، معاشی، معاشرتی، ذہنی، فکری، جذباتی اور نفسیاتی حالات کے ترجمان ہو تے ہیں۔یہ ایسے ماحول اور فضا کو پیش کرتے ہیں جس میں وہ تخلیق ہو ئے۔یہ انسانی معاشرہ کی روایات اور اقدارکے امین ہو تے ہیں۔جس سے آئندہ نسلیں رہنمائی حاصل کرلیتی ہیں۔یہ ماضی کے یاد گار واقعات و حالات کا ریکارڈ ہو تے ہیں۔جس کے مطالعہ سے انسان میں مستقبل سے نمٹنے کا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ ماضی کی سائنسی، تکنیکی ایجادات کی پیش رفت کا دستاویزی ثبوت ہو تے ہیں اور ان کی بنیاد پر ترقی کی اگلی منزلوں کی طرف گامزن ہونا آسان ہو جاتا ہے۔[5]

ان مخطوطات کو سمجھنے کے لیے انتہائی مہارت کی ضرورت ہے۔ اور جب تک کو ئی شخص مخطوطہ شناس نہیں ہو تا، وہ تحقیق و تدوین کے کام کو بخوبی سر انجام نہیں دے سکتا۔ اور نہ ہی قدیم کے متنوں کو اصول ِ تدوین کی مکمل پابندی کے ساتھ مرتب کیا جا سکتا ہے۔قدیم متنوں کی تصحیح کا سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کسی زبان و ادب کے لسّانی جائزوں کے لیے صحیح متنوں کا ہو نا لا زم ہے ورنہ غلط اندیشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔ یہ امر واضح ہے کہ مستند نسخے کو ماخذ بتائے بغیر کسی اقتباس کو اس اعتماد کے ساتھ نہیں پیش کیا جا سکتا کہ اس سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ درست ہے۔ اس احساس نے صحت ِ متن کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ محض یادداشت یا سماعت پر بھروسا کرکے اشعار پیش کر دینا یا کسی بھی سہل الحصول ثانوی ماخذ سے عبارتوں کو نقل کر دینا عام بات ہے۔ مخطوطہ شناسی اور تحقیق و تدوین کے فروغ نے احتیاط کی عمارت پیدا کی،ا ور اعتراض کرنا سکھایا نیز اس بات کو بھی ضروری قرار دیا کہ شعر ہو یا عبارت، اس کو معتبر ترین ماخذ سے منقول کر نا چاہیے جس کے لیے مخطوطہ شناسی کے فن کا ماہر ہونا چاہیے۔مخطوطہ شناسی نے اس اہمیت کو بھی اجاگر کیا کہ شخص کی بجائے ماخذکو اہمیت دینی چاہیے۔ اس دَو رمیں کتابوں کو مرتب کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیاہے لیکن اکثریت ایسی کتابوں کی ہے جن میں تدوین کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اکثر مرتّبین تحقیقی مزاج اور مخطوطہ شناسی سے محروم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ضرور ی معلومات بھی نہیں رکھتے۔ ایک ا ور رجحان یہ بھی ہے کہ لوگ کاموں کو جلد سے جلد نپٹانے کی کوشش میں ہو تے ہیں اس لیے غیر معیاری کام سامنے آجاتا ہے۔ تدوین کے حوالے سے رشید حسن خان لکھتے ہیں:

”تدوین کے لیے۔۔۔۔۔مزاج کا تحقیق آشنا ہو نا ضروری ہے۔ اس کے بعد یہ ضروری ہے کی تدوین کی شرائط سے اور اس کے اصولوں سے آدمی کماحقہ واقف ہو اور عملی مسائل سے بھی کم آشنا نہ ہو یعنی اسے یہ معلوم ہو کہ تدوین کا طریقہ کیا ہے، صحت متن کا مفہوم کیا ہے، اختلاف نسخ کا مطلب کیا ہے اور ایسے ہی دوسرے متعلقّات ہیں۔۔۔۔سے بھی بخوبی واقف ہو۔ فارسی اچھی طرح جانتا ہو۔جس عہد کی تصنیف مرتب کرنا چاہتا ہو،اس عہد کی زبان کا خاص طور پر اس نے مطالعہ کیا ہو۔ اس کے علاوہ اس عہد کے مصنفین کے کلام کا مفصل مطالعہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔باخبری سے مراد یہ نہیں کہ سنی سنائی پر قناعت کی جا چکی ہو۔[6]

تدوین کے لیے متن کے اہم نسخوں کا حصول لازمی ہے اور ان سے استفادہ کیے بغیر تدوین کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ اس میں معتبر حوالے کے بغیر کچھ بھی قابل قبول نہیں ہو تا۔ ایسے متن اکثر بہت کم ہو تے ہیں جنہیں اعتماد کے ساتھ قبول کیا جا سکے۔ تحقیق و تد وین میں ان وجوہات کی بنا پر مخطوطہ شناسی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔اکثر مطبوعہ تذکروں کا متن بھی اغلاط سے خالی نہیں ہو، تذکرہ شورش کا شمار اُردو کے اہم تذکروں میں کیا جا تا ہے۔اس کے ایک خطی نسخے کو کلیم الدین احمد نے شائع کیاہے اور بعد میں ڈاکٹر محمود الٰہی کو اور مخطوطہ دستیاب ہو ا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نسخوں میں بڑا اختلاف موجود ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مخطوطہ شناس ہی ان کے دونوں نسخوں کو سامنے رکھ کر ایک مستند متن مرتب کر سکتا ہے جس سے تحقیق کاروں کو صحیح مواد مل سکے گا۔ عام طور پر اس طرح مطبوعہ تذکروں کی عبارتیں نقل کی جاتی ہیں یا اختلاف متن کے ذیل میں اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے اس میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ دیوان ِ ذوق ؔ کو محمد حسین آزاد ؔ نے مرتب کیا ہے اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آزاد ؔ نے بہت سے مقامات پر ترامیم اور ضافوں کی پیوند کاری کی ہے۔ اس طرح کی "تصحیح" یا تحریف کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

نتائج

متن کی بہت سی تبدیلیاں کتاب کے بار بار چھپنے کا نتیجہ بھی ہو تی ہیں۔ اکثر کتابوں کی اولین اشاعتیں یا اہم اشاعتیں عام طور پر نہیں ملتیں۔ اس لیے جو ایڈیشن دستیاب ہو تے ہیں،ا ن سے کام لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں متن کی تبدیلیوں کا امکان ہو تا ہے۔اکثر صفحات اصل نسخوں کی طرف رجوع کرنے کی بجائے، پہلے کے شائع شدہ انتخابات سے یا ایسے دوسرے ثانوی یا غیر معتبر مآخذ سے نثر و نظم کے اجزاء نقل کیے جاتے ہیں یہ تدوین کے سراسر خلاف ہے۔ ان کے متن کو سند اور ثبوت کے طور پر اس وقت تک پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ معتبر نسخوں سے مقابلہ نہ کر لیا جائے، جب تک ایسے متنوں کو آداب تدوین کی پابندی کے ساتھ معرضِ طبع میں نہ لا یا جائے، ایسی صورت میں مخطوطہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے،مگر جس طرح بار بار ذکر کیا گیا ہے، مخطوطہ کا دستیاب ہو نا بہت اہم ہے لیکن تحقیق و تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی اس سے بھی زیادہ اہم ہے کیوں کہ جب تک مخطوطہ کی اصلیت کا پتا نہیں چلتا، تحقیق و تدوین کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔


حوالہ جات

  1. ضیاء احمد بد ایونی، مخطوطہ شناسی (دہلی: کتابی دنیا،2006ء)، 247۔
  2. ایضا۔،278۔
  3. نعیم اشرف، مخطوطات، فکر و نظر7، (2015):86۔
  4. بدایونی،مخطوطہ شناسی:251 252۔
  5. ڈاکٹر انجم رحمانی، مخطوطات، فکر و نظر7، (2015):34۔
  6. رشید حسن خان،ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ(لاہور: الفیصل ناشران، 2003ء )،94۔